Categories: مشرق وسطی

شام: کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے منصوبے پر اتفاق

شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کی نگرانی کرنے والے عالمی ادارے نے کہا ہے کہ اسے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو سنہ 2014 کے وسط تک تلف کرنے کے تفصیلی منصوبے سے اتفاق ہے۔

آرگنائزیشن آف پروہیبیشن آف کیمیکل ویپنز (او پی سی ڈبلیو) کو شامی کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے لیے حتمی نظام الاوقات پر اتفاق کرنے کے لیے جمعے تک کی ڈیڈ لائن یا مہلت دی گئی تھی۔
شامی ہتھیاروں کی تلفی کے بارے میں امریکہ اور روس کے معاہدے کے تحت جسے اقوام متحدہ کی بھی حمایت حاصل ہے، یہ ڈیڈ لائن دی گئی تھی۔
البانیا نے اپنی سرزمین پر شامی ہتھیاروں کو تلف کرنے کی اجازت نہیں دی لیکن اس کے باوجود او پی سی ڈبلیو نے اس منصوبے کواپنا لیا۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ شامی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے لیے کہاں لے جایا جائے گا۔
او پی سی ڈبلیو کی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس منصوبے کے تحت’شامی کیمیائی ہتھیاروں کو بحفاظت اور جلد تلف کرنے کے لیے ملک سے باہر منتقل کیا جائے گا اور 30 جون سنہ 2014 تک اسے تلف کر دیا جائے گا۔‘
بیان کے مطابق:’سب سے زیادہ اہم کیمیائی مواد کو 31 دسمبر اور باقی مواد کو پانچ فروری تک ہٹایا جائے۔‘
منصوبے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے او پی سی ڈبلیو کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ’دوسرا مرحلہ زیادہ چیلنجنگ ہے اور اس پر بر وقت عمل درآمد کرنے کے لیے کیمیائی ہتھیاروں کی تصدیق اور اسے منتقل کرنے کے لیے محفوظ ماحول کا ہونا ضروری ہے۔‘
البانیا کی طرف سے اجازت نہ ملنے کے بعد ایک ہزار ٹن شامی کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے لیے دوسرے ممکنہ مقامات میں فرانس اور بلجیئم کا نام لیا جا رہا ہے۔
ناروے نے وعدہ کیا ہے کہ وہ کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے لیے متعلقہ مقامات تک پہنچانے کے لیے شام کے بندرگاہوں پر اپنا بحری جہاز اور عملہ بھیجے گا۔
تاہم اس کا کہنا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر ان ہتھیاروں کو تلف نہیں کر سکتا کیونکہ ان کے پاس اس کے لیے ضروری مہارت نہیں ہے۔
او پی سی ڈبلیو نے گذشتہ ماہ اس بات کی تصدیق کی تھی کہ اس نے شام کی طرف سے افشا کردہ کیمیائی ہتھیاروں کے تیار کرنے والے مراکز کو یکم نومبر کی ڈیڈ لائن سے پہلے ختم کر دیا تھا جبکہ کیمیائی ہتھیاروں کو سیل کر دیا گیا۔
شام میں او پی سی ڈبلیو کے مشن کے کوارڈینیٹر نے جمعے کو ہونے والے او پی سی ڈبلیو کے اجلاس میں کہا کہ مشن کے معائنہ کار ایک متحرک جنگی علاقے میں، انتہائی خراب سکیورٹی صورتِ حال میں کام کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ شام میں جاری تنازعے کے دوران کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا معاملہ رواں برس اگست میں اس وقت سامنے آیا تھا جب شامی دارالحکومت دمشق کی نواحی بستی غوطہ میں کیمیائی حملے کے بعد امریکہ نے شام پر حملہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔

بی بی سی اردو

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago