قاہرہ کی ایک عدالت نے مرسی اور اسلام پسند تنظیم اخوان المسلمون کے 12حامیوں کو پر تشدد مظاہروں میں شرکت کے جرم میں سزا سنائی۔ انھوں نے اکتوبر میں مظاہروں کے دوران جامع الاظہر کے صدر دفاتر پر حملہ کیا تھا۔ ادھر معزول صدر محمد مرسی نے ملکی فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی پر غداری کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردارکیا ہے کہ فوجی بغاوت کوکالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی حکومت کا تختہ الٹنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جاتی تو ملک میں استحکام پیدا نہیں ہو سکے گا۔
عدالتی ذرائع کے مطابق مظاہروں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کے الزام میں اخوان المسلمون کے سربراہ محمد بدیع اور ان کے 2 نائبین خیرت الشطر اور راشد البیومی پر مقدمے کی سماعت کا آغاز 11 دسمبر سے شروع ہوگا۔ اگر ان پرجرم ثابت ہوگیا تو انھیں سزائے موت بھی ہوسکتی ہے۔
ایکسپریس نیوز
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید