الاحضر ابراہیمی جو ان دنوں اپنے مشرق وسطی کے دورے کے آخری مرحلے پر شام میں ہیں، شام کے مسقبل کا تعین کرنے کیلیے متوقع جنیوا مذاکرات پر مختلف فریقوں کواعتماد میں لے رہے ہیں۔
وہ اس سے پہلے عرب لیگ کے نمائندوں سے بھی ملاقات کر چکے ہیں اور مصر کی عبوری حکومت سے بھی ، اب شام میں موجود بشار رجیم اور ان کے مخالف دھڑوں سے مل رہے ہیں۔
شام پہنچنے کے مرحلے پر پیرس کے ایک ویب سائٹ پر ان کا انٹرویو شائع ہوا ہے ۔ جس میں انہوں نے کہا ہے” بشارالاسد کو نئے تعارف کے حامل ملک شام میں اقتدار کی منتقلی کیلیے کردارادا کرنا ہو گا مگر ایک لیڈر کے طور پر نہیں۔”
ادھر شام میں بشارالاسد کے قریبی لوگ انہیں بہر حال 2014 میں متوقع صدارتی انتخاب کیلیے بھی امیدوار کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اس حوالے سے خود بشارلاسد بھی کافی پر امید ہیں ۔
تاہم ابراہیمی کا کہنا ہے کہ ” تاریخ کا سبق یہ ہے کہ ایک بحران کے خاتمے کے بعد کوئی واپس نہیں آتاہے۔ اس لیے بشارالاسد کو اپنے والد حافظ الاسد کی طرح عبوری سیٹ اپ کیلے کردار ادا کرنا چاہیے۔”
دوسری جانب شام کی اپوزیشن بھی بشارالاسد کے اقتدار میں رہنے کی صورت میں جنیوا کانفرنس میں جانے کو تیار نہیں ہے۔ شام کی 19 اسلامی تنظیموں نے پہلے ہی اعلان کر رکھا ہے کہ ”اپوزیشن میں سے جوکوئی جنیوا امن کانفرنس میں جائے گا غدار سمجھا جائے گا۔”
الاحضر ابراہیمی کا مزید کہنا تھا” جنیوا امن کانفرنس ایک آغاز ہو گی اس لیے ہمیں امید ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اس کانفرنس کے لیے ایک نمائندے اور نمائندگی پر متفق ہو جائیں گی۔”
اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ نمائندے ابراہیمی نے کہا ” ہم اپنے آپ کو دھوکہ نہیں دینا چاہتے ، جنیوا امن کانفرنس میں پوری دنیا کو نہیں بلایا جاسکتا تاہم جس کو شامل کرنا ضروری ہو گا کیا جائے گا۔”
العربیہ ڈاٹ نیٹ
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…