یہودی آباد کاروں کی مذہبی تقریبات یا تہواروں کی آڑ میں یا تو مسجد میں اذان پر پابندی عائد کردی جاتی ہے یا سرے سے فلسطینیوں کو وہاں عبادت کے لیے داخلے سے روک دیا جاتا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق صہیونی پولیس اور فوج نے یہودیوں کی عید کی آڑ میں مسجد ابراہیمی فلسطینی نمازیوں کے لیے مسلسل دوسرے روز بھی بند رکھی۔ قبل ازیں ہفتے کے روز یہودی آبادکاروں کی آمد کی وجہ سے مسجد ابراہیمی کوالخلیل کے نمازیوں کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ گذشتہ روز جب شہری نماز ادا کرنے گئے تو صہیونی فوج نے انہیں مسجد کے اندر داخل نہیں ہونے دیا۔
صہیونی فوج کی اس غنڈہ گردہ کے خلاف شہریوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور مسجد ابراہیمی میں داخلے پرعائد پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
خیال رہے کہ فروری 1994 ء کو ایک انتہا پسند یہودی باروخ گولڈسٹن نے جامع مسجد الابراہیمی میں نماز فجرکے وقت گھس کراندھا دھند فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں کم سے کم انتیس نمازی شہید اور ڈیڑھ سو زخمی ہوگئے تھے۔ اس واقعے کے بعد اسرائیل نے مسجد ابراہیمی میں یہودیوں کی عبادت کے وقت فلسطینیوں کا داخلہ منع کردیا تھا۔ جزوی طور پر مسجد میں داخلے کی اجازت کے باوجود اب فلسطینیوں کو اس مقدس مقام میں جانے سے مکمل طور پرمحروم کرنے کی گھناؤنی سازش کی جا رہی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…