امدادی کارروائیوں کے بعدتمام زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا، متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کاخدشہ ہے۔ حکام کے مطابق اتوارکو شہرکے شیعہ اکثریتی علاقوں کی مصروف گلیوں میں کھڑی گاڑیوںمیں نصب بم 30منٹ کے دوران پھٹے۔ اس کے علاوہ کچھ دھماکوں میں بازاروںاور بس کے اڈے کونشانہ بنایاگیا۔
بغداد میں ہونے والے دھماکوںمیں 41افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ ادھر موصل میں ہونے والے کاربم حملے میں فوجیوں کونشانہ بنایاگیا جوتنخواہ لینے کے لیے بینک کے باہرجمع تھے۔ حکام کے مطابق اس حملے میں ہلاک ہونے والوں میں 12سیکیورٹی اہلکارشامل ہیں۔
ایکسپریس نیوز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان