ہمارے نامہ نگار کے مطابق شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید منگل یکم اکتوبر کو حج تمتع کے غرض سے ارض حرمین تشریف لے گئے تھے۔ آپ اکیس اکتوبر کو حج کی سعادت حاصل کرنے بعد زاہدان پہنچے۔ ایئرپورٹ پر سینکڑوں شہریوں، علماءوطلباءاور سیاسی وقبائلی عمائدین نے ان کا شاندار استقبال کیا جہاں مولانا نے مختصر دعا کرائی۔
مہتمم وشیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان کی آمد کے ساتھ ہزاروں افراد جامع مسجدمکی میں ان کا خطاب سننے اور دعا میں شرکت کیلیے اکٹھے ہوئے تھے۔ مسجد میں مولانانے اپنے مختصر خطاب میں حج کی اہمیت بیان کرنے کے بعد منفرد انداز میںحرمین شریفین کی خوبصورت مناظر کی تصویرکشی کرلی۔
انہوں نے کہا: ایام حج میں مختلف رنگوں، نسلوں، زبانوں، لہجوں، ملکوں اور مسلکوں کے مسلمان اکٹھے ہوکر ایک ہی ذات کو پکارتے ہیں اور ایک قسم کے لباس پہن کر زندگی کی فنائیت کی گواہی دیتے ہیں۔ شاہ وگدا،حاکم ومحکوم، غریب ومالدار اورہر طبقے کے لوگ ایک ہی لباس میں ظاہر ہوتے ہیں۔ لہذا حج کا پیغام اتحاد ویکجہتی ہے؛ اس سال حج ہم سے یہی کہہ رہاتھا کہ مسلمانو متحد ہوجاو ¿! ایک دوسرے کا خون ناحق نہ بہاو ¿! نسلی وقبائلی تعصبات جاہلیت کی باتیں ہیں، ان سے سخت پرہیز کیاجائے۔
مذکورہ اجتماع مولانا عبدالحمید کی عاجزانہ اور مخلصانہ دعاو ¿ں سے اپنے اختتام کو پہنچا، حضرت شیخ الاسلام نے اپنی دعا میں مسلم امہ کے اتحاد اور بحرانوں کے حل کیلیے دعا کی۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان