Categories: افغانستان

افغانستان: بم دھماکے میں لوگر کے گورنر ہلاک

افغانستان کے صوبہ لوگر میں عید قرباں کے موقع پر مسجد میں بم دھماکے کے نتیجے میں صوبے کے گورنر ارسلا جمال ہلاک ہوگئے ہیں۔

افغانستان میں منگل کو عیدِ قرباں منائی جا رہی ہے اور گورنر ارسلا جمال نمازیوں سے عید مل رہے تھے کہ میز کے نیچے نصب بم پھٹ گیا۔
ارسلا جمال کے ترجمان محمد درویش کے مطابق یہ حملہ صوبائی دارالحکومت پلِ عالم کی مرکزی مسجد میں ہوا۔
ترجمان نے کہا کہ اس واقعے میں کم از کم پندرہ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں بعض کی حالت تشویشناک ہے۔
کسی نے ابھی تک اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
گورنر پر یہ حملے ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکی سکیورٹی فورسز نے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے اہم کمانڈر لطیف اللہ محسود کو حال ہی میں افغانستان میں گرفتار کیا ہے۔
صوبہ لوگر دارالحکومت کابل کے جنوب میں واقع ہے اور ملک کے دیہی علاقوں پر طالبان کا کنٹرول بڑھتا جا رہا ہے۔
بی بی سی پشتو سروس کے داؤد عاظمی کے مطابق گزشتہ دس سالوں میں افغانستان میں اداروں کے قیام کا عمل شروع ہوا ہے اور اس قسم کے لیڈروں کو نشانہ بنانے کا مقصد اس عمل کو ناکام بنانا ہے جس کا فائدہ حکومت کے مخالفین کو ہوگا۔
ان کا یہ بھی کا کہنا ہے کہ ’اس حملے کی ٹائمنگ بہت اہم ہے کیوں کہ لوگر حکمت عملی کے اعتبار سے بہت اہم صوبہ ہے۔ اس کی سرحد کابل سے ملتی ہے اور اسے کابل کا ایک دروازہ کہا جاتا ہے۔ اگر لوگر پر طالبان کا کنٹرول بڑھ جاتا ہے تو ان کے لیے کابل میں حملے کرنا آسان ہو جائے گا‘۔
صوبے کی معدنی وسائل کے حوالے سے اہمیت پر ان کا کہنا تھا کہ ’دنیا میں تانبے کی سب سے بڑی کان لوگر میں ہے جہاں چین نے بھی سرمایا کاری کی ہے اور منصوبہ تھا کہ اس سال کے اندر وہاں کھدائی شروع کی جائے‘۔
ارسلا جمال کو کینیڈا سے واپسی پر اپریل میں صوبائی گورنر تعینات کیا گیا تھا۔ وہ اس سے پہلے خوست کےگورنر بھی رہ چکے تھے۔
سرکاری عہدے لینے سے پہلے وہ غیر ملکی ترقیاتی اداروں کے ساتھ کام کرتے رہے۔ انھیں دیہی ترقی کا ماہر سمجھا جاتا تھا۔
کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ لیئون کا کہنا ہے کہ لوگر اور اس کے قریبی صوبے وردک میں حالیہ سالوں میں امن و امان کی صورتِ حال تیزی سے خراب ہوئی ہے۔
خیال رہے کہ افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کا انخلا منصوبے کے مطابق آئندہ سال سے شروع ہونا ہے اور اس کے بعد ملک کی سکیورٹی کی ذمے داریاں افغان سکیورٹی فورسز کے پاس چلی جائیں گی۔
ماہرین افغانستان کی طرف سے امن و امان کی صورتِ حال کو برقرار رکھنے کو بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔

بی بی سی اردو

modiryat urdu

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago