ابتدائی معلومات کے مطابق تازہ زلزلے سے 16 افراد ہلاک اور تیس کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ جبکہ زلزلہ آنے والا گاؤں مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔
زلزلے کا مرکز آواران سے 96 کلومیٹر دور اور 14٫8 زیر زمین تھا۔کراچی،پنچگور،کوئٹہ،دادو،لاڑکانہ ،سکھر اور بلوچستان کے متاثرہ علاقوں میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ جس سے مشکے کے علاقے میں مزید تباہی ہوئی ہے۔
پاکستان کے محکمۂ موسمیات کے مطابق زلزلہ بارہ بج کر چونتیس منٹ پر آیا اور ریکٹر سکیل پر اس زلزلے کی شدت سات اعشاریہ دو ریکارڈ کی گئی جبکہ امریکی ارضیاتی سروے نے اس کی شدت چھ اعشاریہ آٹھ بتائی ہے۔
زلزلے کی وجہ سے بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔کراچی و دیگر شہروں میں لوگ اور ملازمین گھروں ،دفاتر سے باہر نکل آئے۔شہریوں میں شدید و خوف ہراس پھیل گیا۔
پاکستان کے محکمۂ موسمیات کے مطابق زلزلے کا مرکز آواران کے جنوب میں خضدار کا علاقہ تھا اور یہ چھیالیس کلومیٹر کی گہرائی میں آیا۔
یہ گزشتہ منگل کو آنے والے زلزلے کا آفٹر شاک نہیں بلکہ بذات خود ایک شدید زلزلہ ہے۔
ق مشکے کے گاؤں نوک جو میں اس زلزلے سے بیشتر مکانات گر گئے ہیں اور متعدد افراد کے ملبے تلے دبنے کی اطلاعات ہیں۔
ٹی آر ٹی اردو
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام