مسلم دنیا کے عنوان سے ہونے والے اس مقابلے کی بانی ایکا شانتی نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ اس مقابلہ کا اہتمام انڈونشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلم دنیا کے اس خوبصورتی کے مقابلے کا طریقہ دوسرے مقابلہ حسن کے طریقوں سے قدرے مختلف ہے۔
اس مقابلے کی ضروریات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس میں شرکت کےلیے آپ کو متقی، پرہیز گار، نیک ہونا چاہیے۔ مثبت طرز زندگی کے علاوہ روحانیت کے اقدار پر پورا اترنے والی خصوصیات اس مقابلے کے اہم اجزا میں شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 500 امیدواروں میں سے آخری بیس کا فیصلہ کر لیا گیا جنہوں نے آن لائن اس مقابلے میں حصہ لیا تھا۔
امیدواروں کو چننے کے حوالے سے شانتی نے کہا کہ پہلے ان سے تلاوت قرآن مجید کرائی گئی بعد ازاں انہیں یہ دکھانا تھا کہ آیا یہ اپنے سر کو کیسے بہتر انداز میں ڈھانپ سکتی ہیں۔ مقابلے میں شرکت کی متمنی تمام امیدواروں کا تعلق متخلف اسلامی ممالک سے بتایا گیا ہے جن میں سے اکثریت بنگلہ دیش، ایران، ملائشیا، نائجیریا اور برونائی سے ہے۔
مقابلے میں جدید ترین اسلامی لباس پردے کے حوالے سےزیب تن کیا جائے گا، تاکہ نوجوان مسلم خواتین میں آگاہی ہیدا کی جا سکے کہ اسلام میں پردے کی کیا اہمیت ہے اور پردہ خواتین کے لیے کیوں ضروری ہے، تاہم شانتی نے کہا کہ اس مقابلے کو موخر یا معطل کرنے کا ابھی ان کا کوئی ارادہ نہیں ہے کیونکہ انڈونیشا ایک متنوع اسلامی ملک ہے اور وہ کسی ایسی اپیل یا دھمکی کو خاطر نہیں لاتیں۔
دنیائے جدید کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے شانتی نے کہا کہ ہم مقابلہ حسن کو صرف ایسے ہی ایونٹس سے مات دے سکتے ہیں۔ ہم مکمل طور پر مقابلہ حسن کا انکار نہیں کر سکتے۔ ہمیں اب یہ دیکھنا ہو گا کہ آیا ہم اپنے بچوں کو کس طرح دین کے پاس لا سکتے ہیں کہ آیا وہ مقابلہ حسن جیتنے والی خواتین بننا پسند کریں گے یا مسلم ورلڈ جیسے عنوان سے بننے والے مقابلہ حسن والی خواتین بننا پسند کریں گے۔
احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر انڈونشیا کے حکام نے واضح کیا کہ مقابلہ حسن کو انڈونشیا کے دوسرے شہر بالی منتقل کیا گیا ہے ۔ وہاں کی ہندو اکثریت عالمی مقابلہ حسن کے ساتھ ہے۔ مس ورلڈ کے مقابلے میں شامل ایک راونڈ ایسا بھی ہے جس میں امیدواروں تقریباً برہنہ ہونا پڑتا ہے، جس کے خلاف ایک ایسا شدید ردعمل دیکھا گیا، احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور مظاہرین نے ایسے مقابلوں کے پوسڑز نذر آتش کرتے ہوئے حکام سے پر زور مطالبہ کیا کہ ایسے مقابلوں کے انعقاد پر بابندی لگائی جائے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…