شام کی مقامی رابطہ کمیٹیوں نے ایک بیان میں ان فوجیوں کے منحرف ہونے کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ یہ فوجی دارالحکومت دمشق کے نواح میں تعینات تھے۔ ان میں صوبہ الرقہ سے تعلق رکھنے والا ایک فوجی افسر بھی شامل ہے۔
ان فوجیوں نے ایسے وقت میں صدربشارالاسد کا ساتھ چھوڑا ہے جب دمشق کے نواحی علاقے غوطہ میں 21 اگست کو کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے ردعمل میں امریکا کی قیادت میں مغربی ممالک شام کے خلاف محدود پیمانے پر فوجی کارروائی کی تیاریاں کررہے ہیں اور امریکا شام کی بحری اور فضائی ناکہ بندی کے لیے علاقے میں موجود اپنی فوجوں کو حرکت دے رہا ہے۔
اس سے قبل جون میں شامی فوج کے ستر سے زیادہ افسروں نے بشارالاسد کا ساتھ چھوڑا تھا۔ ان میں چھے جنرل اور بائیس کرنل شامل تھے۔ یہ تمام فوجی افسر سرحد عبور کر کے پڑوسی ملک ترکی میں چلے گئے ہیں۔ شامی صدر کے خلاف مارچ 2011ء سے جاری عوامی احتجاجی تحریک کے دوران بیک وقت منحرف ہونے والے فوجی افسروں کی یہ سب سے بڑی تعداد تھی۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام