حکام کا کہنا ہے کہ منگل کی شام عراق کے شمالی ضلع میں دکانوں اور ریستوانوں کے قریب دو بم دھماکوں میں 9 افراد اور مغربی حصے میں ہونے والے بم دھماکوں میں 19 افراد مارے گئے۔
حکام کا مذید کہنا ہے کہ اس سے پہلے عراق کے جنوب میں مسلح افراد نے فائرنگ کر کے 7 افراد کو ہلاک کر دیا۔
عراق کے دارالحکومت بغداد میں منگل کی شام سلسلہ وار بم دھماکوں میں شہریوں کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ خریداری کے لیے بازار میں یا رات کا کھانا کھانے کے لیے ریستوران میں موجود تھے۔
عراق میں طبی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے سات مختلف ضلعوں میں ہونے والے بم دھماکوں میں کم سے کم 50 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔
ایک پولیس اہلکار علی جمیل نے خبر رساں ادارے رائیٹرز کو بتایا کہ ہم نے آگ کا گولا اور دھویں کے بادل دیکھے۔
انھوں نے کہا ’ دھماکے کی جگہ سے لوگوں کے چیخنے کی آوازیں آ رہی تھیں‘۔
پولیس اہلکار کے مطابق اس دھماکے کے ایک منٹ کے بعد دوسرا دھماکہ ہو گیا جس کے بعد وہاں متعدد لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔
عراق میں گزشتہ ماہ کے دوران 800 سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق عراق میں جنوری سے اب تک 5,000 سے زائد افراد ہلاک اور 12,000 زخمی ہو چکے ہیں۔
عراق میں پرتشدد واقعات کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب فوج نے اپریل میں حویجا قصبے کے قریب حکومت مخالف سنی مسلک کے احتجاجی کیمپ پر چھاپہ مارا جس میں 50 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
عراق میں شیعہ اور سنی مسلک کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
سنی آبادی کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نوری المالکی کی حکومت میں سنی مسلمانوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ عراق میں سنہ 2003 کے امریکی حملے کے بعد سے رواں سال سب سے زیادہ خونی رہا ہے۔
بی بی سی اردو
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…