اخبارگارڈین کودیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی جنرل جوزف ڈنفورڈ نے بتایا کہ افغان سیکیورٹی فورسزکومزید5 سال مغرب کی حمایت کی ضرورت ہے اور اس کے بعد ہی وہ پوری سیکیورٹی کی ذمے داری سنبھانے کے قابل ہوگی، میں ان حالات کو سنجیدگی سے دیکھتا ہوں اور باقی کمانڈروں کا بھی یہی خیال ہے، اکثر اوقات ایک ہفتے میں100 افراد کونشانہ بنایا جاتا ہے، امریکی جنرل نے دعویٰ کیا کہ ہوسکتا ہے کہ ان میں کچھ فوجیوں کو2018ء تک وہاں رکھا جائے، انھوں نے واضح کیا کہ وہ افغان سیکیورٹی فورسز کی بہتری میں3 سے 5 سال درکار ہیں۔
میں صرف اس وقت کی بات کررہا ہوں جب افغان فوج اس مقام پر ہوں گی جہاں پراس کو کسی دوسری کی مدد اورحمایت کی ضرورت نہیں ہوگی۔ دوسری طرف کابل میں نئے افغان وزیر داخلہ عمردائود زئی نے کہا ہے کہ امریکا کے افغانستان پر حملے سے اگرچہ ملک میں طالبان کی گرفت کمزور ہوئی ہے تاہم عدم استحکام ابھی بھی برقرار ہے، سازوسامان اور فرنٹ لائن کمبیٹ تجربے میں کمی کے باعث رواں سال ملک میں پولیس افسران کی ہلاکتوں کی تعداد دگنی ہوگئی ہے۔ افغان سیکیورٹی فورسز اور نیٹو کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2013ء سے لیکر رواں ماہ ستمبر تک6 ماہ کے عرصے میں 1792پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ2700 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
ایکسپریس نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…