یہ فسادات چین کے ضلع باچو میں کاشغر کے نزدیک منگل کی دوپہر شروع ہوئے۔
چین کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کی جانب سے اس حملے کی پہلے سے منصوبہ بندی کی گئی تھی۔
خیال رہے کہ چین کے مغربی صوبے سنکیانگ میں حالیہ برسوں کے دوران فسادات ہوتے رہے ہیں۔
یہ فسادات ایسے وقت ہوئے جب مسلم گروہ ویغور اور ہان چینی قومیتوں میں نسلی تناؤ موجود ہے۔
واضح رہے کہ چین کے مغربی صوبے میں سنہ 2009 میں بھی فسادات ہوئے تھے جن میں کم از کم 200 افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں اکثریت ہان قوم کی تھی۔
سنکیانگ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ان فسادات کی خبروں کی تصدیق کرنا بہت مشکل ہے۔ اس خطے میں غیر ملکی صحافیوں کو سفر کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم خبروں کی تصدیق کے لیے انھیں اکثر اوقات ہراساں کیا جاتا ہے۔
سنکیانگ میں حکومتی پروپگینڈا ڈیپارٹمنٹ کی ڈائریکٹر ہوہینمن کا کہنا ہے کہ منگل کو ہونے والے فسادات اس وقت شروع ہوئے جب امدادی کارکنوں نے اسلحہ ڈھونڈنے کے لیے گھروں کی تلاشی لی۔
انھوں نے بی بی سی چائنا سروس کو بتایا کہ تین کارکن اس وقت ہلاک ہوئے جب وہ ایک مقامی شخص کے گھر میں مشتبہ اطلاعات کی تفتیش کر رہے تھے۔
دریں اثنا چین کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ہُوا چُن یِنگ کا کہنا ہے کہ پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق دہشت گردوں کی جانب سے اس حملے کی پہلے سے منصوبہ بندی کی گئی تھی۔
انھوں نے کہا کہ سنکیانگ میں سکیورٹی کی صورت حال مجموعی طور پر بہتر ہے تاہم چند دہشت گرد سنکیانگ کے استحکام اور ترقی کو تباہ کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
بی بی سی اردو
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام