304 صفحات پر مشتمل کمیشن کی رپورٹ میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو واقعہ کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق لال مسجد آپریشن کے لے تین سطحی حکمت عملی ترتیب دی گئی تھی۔
رپورٹ میں سابق وزرائے اعظم چوہدری شجاعت حسین ، شوکت عزیز، طارق عظیم اور اس وقت کی کابینہ کے ارکان نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو لال مسجد آپریشن کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
سابق وزرائے اعظم اور کابینہ کے ارکان کے مطابق آپریشن سے گریز کیا جاسکتا تھا لیکن مشرف نے آپریشن پر بضد رہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع لال مسجد میں آپریشن کے لیے ٹرپل ون بریگیڈ سمیت منگلا سے بھی سیکورٹی فورسز کو بلایا گیا تھا جب کہ 30 جولائی 2007ء کو مسلح افواج کو بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔
کمیشن رپورٹ میں دارالعلم کے نام سے مذہبی ادارے متعارف کرانے اور انہیں مکمل مالی سپورٹ فراہم کرنے کی سفارشات بھی کی گئی ہیں۔
دی نیوزٹرائب
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید