304 صفحات پر مشتمل کمیشن کی رپورٹ میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو واقعہ کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق لال مسجد آپریشن کے لے تین سطحی حکمت عملی ترتیب دی گئی تھی۔
رپورٹ میں سابق وزرائے اعظم چوہدری شجاعت حسین ، شوکت عزیز، طارق عظیم اور اس وقت کی کابینہ کے ارکان نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو لال مسجد آپریشن کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
سابق وزرائے اعظم اور کابینہ کے ارکان کے مطابق آپریشن سے گریز کیا جاسکتا تھا لیکن مشرف نے آپریشن پر بضد رہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع لال مسجد میں آپریشن کے لیے ٹرپل ون بریگیڈ سمیت منگلا سے بھی سیکورٹی فورسز کو بلایا گیا تھا جب کہ 30 جولائی 2007ء کو مسلح افواج کو بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔
کمیشن رپورٹ میں دارالعلم کے نام سے مذہبی ادارے متعارف کرانے اور انہیں مکمل مالی سپورٹ فراہم کرنے کی سفارشات بھی کی گئی ہیں۔
دی نیوزٹرائب
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…