چین زلزلہ:200 سے زیادہ ہلاک، ساڑھےگیارہ ہزار زخمی

چین کے صوبے سیچوان میں سنیچر کو آنے والے زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 200 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ اس سے 11500 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
ملک کے جنوب مغربی صوبے کے دوردراز پہاڑی علاقے میں آنے والے اس زلزلے سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور راستوں کی بندش کی وجہ سے امدادی کارکنوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
یہ زلزلہ چین کے مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بجے آیا تھا اور امریکی ارضیاتی سروے کے مطابق زلزلے کی شدت 6.6 تھی۔
چینی حکام کا کہنا ہے کہ کم گہرائی میں آنے کی وجہ سے زلزلے کی شدت بہت زیادہ تھی اور اس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔
زلزلے کے نتیجے میں متاثرہ علاقوں میں بیشتر عمارتیں منہدم ہوگئیں جبکہ بجلی اور مواصلات کا نظام درہم برہم ہوگیا۔ متاثرہ علاقوں میں ہزاروں افراد نے سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب عارضی پناہ گاہوں اور گاڑیوں میں گزاری ہے۔
چینی حکام نے امدادی کارروائیوں کے لیے چھ ہزار سکیورٹی اہلکار متاثرہ علاقے میں بھیجے ہیں جو پوری رات متاثرہ دیہات میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے میں پھنسے زندہ افراد اور ہلاک شدگان کی لاشیں نکالنے میں مصروف رہے۔
چین میں شہری امور کی وزارت نے اب تک اس واقعے میں 203 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے جبکہ 11500 افراد زخمی ہیں۔ چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی زنہوا کے مطابق زخمیوں میں سے ایک ہزار کے قریب افراد کی حالت نازک ہے۔
چین کے وزیراعظم لی کیچانگ متاثرہ علاقے میں خود امدادی کارروائیوں کی نگرانی کر رہے ہیں اور انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’امدادی کارروائیاں ہمارا پہلا فرض ہے۔ بچاؤ کے لیے ابتدائی 72 گھنٹے انتہائی اہم ہیں۔ہم ایک منٹ بھی ضائع نہیں کر سکتے۔‘
زلزلے سےلوشان کا علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور یہاں زلزلے کے آفٹر شاکس آنے کا سلسلہ بھی جاری ہے اور اب تک گیارہ سو جھٹکے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
لوشان میں زلزلے سے متاثرہ ایک اڑسٹھ سالہ شخص نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ایسا لگ رہا تھا کہ پہاڑ زندہ ہوگیا ہے۔‘
جاپان نے متاثرین کی مدد کے لیے چین کو امداد کی پیشکش کی ہے جبکہ چین کا کہنا ہے کہ فی الحال اسے بیرونی امداد کی ضرورت نہیں لیکن اگر حالات تبدیل ہوئے تو وہ جاپانی حکام سے رابطہ کرے گا۔
متاثرہ علاقے میں زلزلے کے بعد کارروائیوں کے محکمے کے افسر چین یونگ کا کہنا ہے کہ ’ہمیں زیادہ تر متاثرہ علاقوں میں صورتحال کا اندازہ ہو چکا ہے۔ بیشتر ہلاکتوں کی رپورٹ بھی آ چکی ہے۔ تاہم ممکن ہے کہ کچھ دوردراز پہاڑی علاقوں کی صورتحال تاحال واضح نہ ہوئی ہو۔‘
زلزلے کے بعد مٹی کے تودے گرنے اور آفٹر شاکس کی وجہ سے اس علاقے تک رسائی کے راستے بھی بند ہوگئے ہیں جن کی وجہ سے امداد کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہو رہا ہے۔ چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق سنیچر کی رات ہونے والی بارش سے بھی امدادی کارروائیوں میں خلل آیا ہے۔
خیال رہے کہ چین کا صوبہ سیچوان ماضی میں بھی زلزلوں کا نشانہ بنتا رہا ہے اور یہاں مئی 2008 میں آنے والے زلزلے میں 90 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

بی بی سی اردو

modiryat urdu

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago