مقامی حکام کے مطابق طالبان نے رات کے وقت چیک پوسٹ پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں 13 پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے، صوبائی گورنر موسیٰ خان اکبرزادہ نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی تحقیقات کے لئے کمیٹی تشکیل دے دی گئی جو علاقے میں جاکر عوامل کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
2014 میں امریکا اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد افغانستان کی سیکیورٹی کے امور افغان آرمی اور پولیس کے حوالے کر دیئے جائیں گے جس کی وجہ سے گزشتہ کچھ عرصے سے طالبان نے افغان پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔
بدھ کے روز صوبہ جوز جان میں طالبان نے 4 افغان سیکیورٹی اہلکاروں کو اغوا کے بعد ان کے گلے کاٹ کر لاشیں سڑک پر پھینک دیں تھیں، منگل اور بدھ کے روز ہی طالبان کی جانب سے کئے گئے حملوں میں 4 سیکیورٹی اہلکاروں اور ریڈ کریسنٹ کے 2 کارکنوں سمیت 23 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
ایکسپریس نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…