دھماکے میں زخمی ہونے والے چار افراد کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔ ہلاک ہونے والے افراد میں تین کا تعلق متنی سے جبکہ ایک کا تعلق کھوئی حسن خیل سے ہے ۔
بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق دھماکے میں 4سے 5کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا اوت دھماکہ خیز مواد گاڑی کی چھت پر رکھا گیا تھا جو متنی کے علاقے میں پہنچتے ہی روز دار دھماکے سے پھٹ گیا۔
بم ڈسپوزل افسر عبدل حق کا کہنا ہے کہ تقریباً چار سے پانچ کلوگرام دھماکہ خیز مواد بس کی چھت پر نصب کیا گیا تھا۔
صوبائی دارالحکومت پشاور کے نواحی علاقے متنی کے شیر علی بازار میں کوچ میں 18 مسافر سوار تھے۔
وین سکیم چوک سے متنی کی جانب آرہی تھی کہ متنی چوک میں پہنچتے ہی گاڑی کی پچھلی سائیڈ میں دھماکہ ہو گیا جس سے گاڑی میں بیٹھی تمام سواریاں شدید زخمی ہو گئیں جنہیں فوری طور پر موقع پر موجود افرادنے قریبی ہسپتال پہنچایا ۔
واقعہ میں بس ڈرائیور اور کنڈیکٹر محفوظ رہے جنہیں پولیس نے گرفتار کر لیا۔ مسافر وین کا فرنٹ حصہ بھی محفوظ رہا۔ دھماکے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
جائے وقوہ پر موجود ایس پی رورل شفیع اللہ نے بتایا کہ دھماکہ چلتی بس میں ہوا ہے اوردھماکے کی وجوہات معلوم کی جارہی ہیں۔ ایمرجنسی انچارج ڈاکٹر شیراز نے بتایا کہ 9زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال لایا گیا ہے۔
اس کے علاوہ ابھی تک کسی نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی) نے دھماکے سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔
ٹی ٹی پی کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ہمارا دھماکے سے کوئی تعلق نہیں، جیسا کہ ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ہم ایسے عوامی مقامات کو نشانہ نہیں بناتے جہاں عام آدمی کو نقصان پہنچے۔
ڈان
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…