فوجی چیک پوسٹ پر ہونے والا حملہ ایسے علاقے میں ہوا ہے جسے عسکریت پسندوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے جبکہ موسم کی بہتری نے اس پہاڑی علاقے میں آمد و رفت کو آسان بنادیا ہے۔
وزارت کے ترجمان جنرل محمد ظاہر عظیمی کا کہنا ہے کہ لڑائی جمعے کی صبح ناری ضلع کے کنار صوبے میں شروع ہوئی۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیع اللہ مجاہد نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیک پوسٹ پر قبضہ کرلیا گیا ہے۔
ان کے مطابق حملے کے دوران 15 فوجی ہلاک ہوئے جبکہ ان کا کوئی جنگجو ہلاک نہیں ہوا۔
رواں سال ہونے والی لڑائیاں افغان فورسز کے لیے ایک “ٹیسٹ کیس” ہے کیوں اب انہیں بین الاقوامی فوجوں کی ماضی کے مقابلے میں کم مدد حاصل ہے جبکہ آئندہ سال امریکی اور دیگر فورسز کا افغانستان سے انخلا کا بھی ارادہ ہے۔
افغانستان میں اس وقت ایک لاکھ کے قریب بین الاقوامی فوجی تعینات ہیں جن میں سے 66 ہزار امریکی ہیں۔
امریکہ اگلے سال کے آغاز تک اپنی فوجیوں کی تعداد 32 ہزار کردے گا۔
ڈان نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…