فوجی چیک پوسٹ پر ہونے والا حملہ ایسے علاقے میں ہوا ہے جسے عسکریت پسندوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے جبکہ موسم کی بہتری نے اس پہاڑی علاقے میں آمد و رفت کو آسان بنادیا ہے۔
وزارت کے ترجمان جنرل محمد ظاہر عظیمی کا کہنا ہے کہ لڑائی جمعے کی صبح ناری ضلع کے کنار صوبے میں شروع ہوئی۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیع اللہ مجاہد نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیک پوسٹ پر قبضہ کرلیا گیا ہے۔
ان کے مطابق حملے کے دوران 15 فوجی ہلاک ہوئے جبکہ ان کا کوئی جنگجو ہلاک نہیں ہوا۔
رواں سال ہونے والی لڑائیاں افغان فورسز کے لیے ایک “ٹیسٹ کیس” ہے کیوں اب انہیں بین الاقوامی فوجوں کی ماضی کے مقابلے میں کم مدد حاصل ہے جبکہ آئندہ سال امریکی اور دیگر فورسز کا افغانستان سے انخلا کا بھی ارادہ ہے۔
افغانستان میں اس وقت ایک لاکھ کے قریب بین الاقوامی فوجی تعینات ہیں جن میں سے 66 ہزار امریکی ہیں۔
امریکہ اگلے سال کے آغاز تک اپنی فوجیوں کی تعداد 32 ہزار کردے گا۔
ڈان نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…