Categories: مشرق وسطی

شام:’فضائی کارروائیوں میں ٹارگٹ عام شہری‘

حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق شام کی فضائیہ عام شہریوں پر جان بوجھ کر اور بلاتفریق فضائی حملے کر رہی ہے۔
ہیومن رائٹس واچ نے شام کے شمال مشرقی علاقوں میں باون ایسے مقامات کا دورہ کیا جہاں اس طرح کے 59 حملے کیے گئے۔
تنظیم کے مطابق شام میں جاری تنازع کے دوران ہونے والی تقریباً ستر ہزار ہلاکتوں میں سے زیادہ تر حکومت کی غیر قانونی کارروائیوں کے نتیجے میں ہوئیں۔
تنظیم کے مطابق شامی فضائیہ کے بلا امتیاز اور جان بوجھ کر کیے جانے والے حملوں میں ایک اندازے کے مطابق ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور یہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ہیومن رائٹس واچ نے چین اور روس پر تنقید بھی کی ہے کہ دونوں ممالک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی شام کے خلاف کارروائی کی مخالفت کر رہے ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ’آسمانوں سے موت‘ کے مطابق گزشتہ سال جولائی سے شامی فضائیہ کے جنگی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے شہروں سمیت ان علاقوں میں معمول سے حملے جاری ہیں جو باغیوں کے قبضے میں ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ نے سال دو ہزار بارہ میں اگست سے دسمبر تک شام کے شہر حلب، ادلیب اور اذقیہ میں ان جگہوں کا دورہ کیا جو حزب مخالف کے کنٹرول میں ہیں۔
اس دوران ہیومن رائٹس واچ نے ان فضائی حملوں کے عینی شاہدین، متاثرین اور شامی فضائیہ کے باغی اہلکاروں سے بات چیت کی جبکہ کئی فضائی حملوں کا خود مشاہدہ کیا۔
تنظیم کے مطابق یہ علاقے کئی ہفتوں اور مہینوں سے باغیوں کے قبضے میں تھے اور وہاں شامی سکیورٹی فورسز کی زمینی کارروائی جاری نہیں تھی۔
’ایسے شواہد ملے کے حکومتی سکیورٹی فورسز نے فضائی کارروائی اور توپخانے کے ذریعے بیکریوں پر حملے کیے جہاں عام شہری روٹی کی خریداری کے لیے قطاروں میں کھڑے تھے اور اس کے علاوہ ہسپتالوں پر حملے کیے جبکہ واضح شواہد کے ساتھ یہ بات سامنے آئی کہ جان بوجھ کر انہیں نشانہ بنایا گیا‘۔
دوسرے واقعات میں شامی سکیورٹی فورسز نے وسیع علاقے میں ہلاکتوں کا باعث بننے والے بم استعمال کیے۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق درجنوں ایسے کیس سامنے آئے جن میں’عام شہریوں کی بڑی تعداد میں ہلاکت‘ کے برعکس حزب اختلاف کے زیراستعمال املاک کو معمولی نقصان پہنچا اور باغی جنگجووں کی ہلاکت نہیں ہوئی‘۔
شامی فضائیہ کے چار باغی اہلکاروں نے تنظیم کو بتایا کہ کمانڈر عام شہریوں کی ہلاکت سے بچاؤ کی اقدامات کیے بغیر شہری علاقوں پر کارروائی کا حکم دیتے تھے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شامی فوجیوں نے ممنوعہ کلسٹر بموں کا استعمال کیا ہے۔
اس کے ساتھ تنظیم نے حزب اختلاف پر بھی تنقید کی ہے کہ انہوں نے اس عرصے کے دوران اپنے جنگجووں اور مراکز کو گنجان آباد علاقوں میں قائم کیا اور اس وجہ سے دو طرفہ کارروائیوں میں عام شہریوں کی جان کو زیادہ خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔

بی بی سی اردو

modiryat urdu

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago