Categories: افغانستان

طالبان سے مذاکرات ضروری ورنہ خانہ جنگی کا خطرہ

برطانیہ کی کمیٹی برائے دفاع کا کہنا ہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے امن مذاکرات افغانستان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے اہم ہیں اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہو سکتی ہے۔
برطانیہ کے ہایوان زیریں کی دفاعی کمیٹی نےکہا کہ برطانیہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس بات کو یقینی بنائے کہ 2014 میں فوجوں کے انخلاء کے بعد افغانستان اپنے پیروں پر کھڑا ہو سکے۔
برطانیہ کے وزیر دفاع فلپ ہمنڈ نے کہا کہ برطانیہ افغانستان میں پائیدار سیاسی حل کے لیے افغان عوام کی مدد کرے گا۔
دفاعی کمیٹی کی رپورٹ میں افغانستان سے برطانوی فوج کا انخلاء اور افغان نیشنل سکیورٹی فورسز کو ذمہ داریاں سونپنے پر غور کیا گیا ہے۔
کمیٹی نے اگلے سال عالمی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے افغان فورسز کی صلاحیت پر اپنے تحفضات کا اظہار کیا ہے۔
دفاعی کمیٹی کے چیئرمین جیمز آربتھنٹ کا کہنا ہے ’ہمیں 2014 کے بعد افغانستان کے حوالے سے بالکل مختلف تجزیے موصول ہوئے ہیں۔ حقیت یہ ہے کہ برطانیہ کا کا اثر و رسوخ محدود ہے۔ یہ افغان عوام پر منحصر ہے کہ وہ اپنا مستقبل خود سنواریں۔‘
دفاعی کمیٹی کا کہنا ہے کہ ان کو 2014 میں اتحادی فوج کے انخلاء کے بعد وزارت دفاع اور دفتر خارجہ کا افغانستان میں ملوث رہنے کے حوالے سے بہت کم معلومات ملی ہیں۔‘
دفاعی کمیٹی کی رپورٹ میں مندرجہ ڈیل سفارشات بھی کی گئی ہیں۔
1) صاف اور شفاف انتخابات
2) تربیت یافتہ افغان نیشنل سکیورٹی فورسز جس کو متواتر مالی امداد دی جائے
3) طاقتور عدلیہ
4) ترقیاتی امداد
5) بدعنوانی اور منشیات پو قابو پانے کے لیے موثر اقدامات
واضح رہے کہ حال ہی میں برطانیہ کے رائل میرین فوجیوں کا آخری دستہ دس سال تک افغانستان میں تعینات رہنے کے بعد وہاں سے روانہ ہوا۔
رائل میرین سے تعلق رکھنے والے چالیس کمانڈو پہلے برطانوی فوجی تھے جنہوں نے 2001 میں افغانستان کی سرزمین پر قدم رکھا۔ افغانستان میں برطانوی فوجی سنگین، نہرِ سراج اور موسیٰ قلعہ میں تعینات تھے۔
برطانیہ کی حکومت نے اپنی تمام فوج کو دو ہزار چودہ تک افغانستان سے واپس بلانے کا اعلان کر رکھا ہے۔ برطانیہ 2014 تک تمام فوجیوں واپس کے منصوبے پر کامیابی سے عمل کر رہا ہے۔
رائل میرین کے آخری دستے کی افغانستان سے روانہ کے موقع پر برطانوی وزیر دفاع فلپ ہمنڈ نے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے افغان فوجیوں کی صلاحیتوں کو بڑھانے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ برطانوی فوجیوں کے تربیت یافتہ افغان فوجی اس بات کو ممکن بنائیں گے کہ افغانستان اب کبھی دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ نہیں بنے گا۔

بی بی سی اردو

modiryat urdu

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago