غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق حملے کے وقت امریکی چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل مارٹن ڈیمپسی ایک مشاورتی دورے پر افغانستان میں موجود تھے، دھماکا جنوبی صوبے زابل کے صدر مقام قلات میں کیا گیا جس کے نتیجے میں 3 فوجی اور 2 سویلین باشندوں سمیت 5 امریکی شہری مارے گئے، سویلین باشندوں میں ایک نوجوان امریکی سفارت کار بھی شامل ہے جب کہ حملے میں ایک افغان ڈاکٹر بھی جاں بحق ہو گیا، دھماکے میں صوبائی گورنر محمد اشرف ناصری کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تاہم وہ محفوظ رہے۔
واضح رہے کہ ان ہلاکتوں سے اس سال افغانستان میں ہلاک ہونے والے غیر ملکی فوجیوں کی تعداد 30 ہو گئی ہے جن میں 22 امریکی شامل تھے۔
ایکسپریس نیوز
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام