غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق حملے کے وقت امریکی چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل مارٹن ڈیمپسی ایک مشاورتی دورے پر افغانستان میں موجود تھے، دھماکا جنوبی صوبے زابل کے صدر مقام قلات میں کیا گیا جس کے نتیجے میں 3 فوجی اور 2 سویلین باشندوں سمیت 5 امریکی شہری مارے گئے، سویلین باشندوں میں ایک نوجوان امریکی سفارت کار بھی شامل ہے جب کہ حملے میں ایک افغان ڈاکٹر بھی جاں بحق ہو گیا، دھماکے میں صوبائی گورنر محمد اشرف ناصری کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تاہم وہ محفوظ رہے۔
واضح رہے کہ ان ہلاکتوں سے اس سال افغانستان میں ہلاک ہونے والے غیر ملکی فوجیوں کی تعداد 30 ہو گئی ہے جن میں 22 امریکی شامل تھے۔
ایکسپریس نیوز
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…