غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق حملے کے وقت امریکی چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل مارٹن ڈیمپسی ایک مشاورتی دورے پر افغانستان میں موجود تھے، دھماکا جنوبی صوبے زابل کے صدر مقام قلات میں کیا گیا جس کے نتیجے میں 3 فوجی اور 2 سویلین باشندوں سمیت 5 امریکی شہری مارے گئے، سویلین باشندوں میں ایک نوجوان امریکی سفارت کار بھی شامل ہے جب کہ حملے میں ایک افغان ڈاکٹر بھی جاں بحق ہو گیا، دھماکے میں صوبائی گورنر محمد اشرف ناصری کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تاہم وہ محفوظ رہے۔
واضح رہے کہ ان ہلاکتوں سے اس سال افغانستان میں ہلاک ہونے والے غیر ملکی فوجیوں کی تعداد 30 ہو گئی ہے جن میں 22 امریکی شامل تھے۔
ایکسپریس نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…