پولیس کا کہنا ہے کہ سات منزلہ عمارت غیر قانونی طور پر محکمۂ جنگلات کی زمین پر تعمیر کی جا رہی تھی اور اس کی چار منزلیں زیر استعمال تھیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں چھبیس بچے بھی شامل ہیں
جائے حادثہ پر ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں اب روک دی گئیں ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ جمعرات کو رات گئے پیش آنے والے اس واقعے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
اس واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے جبکہ ڈپٹی میونسپل کمشنر اور سینیئر پولیس اہلکار کو اپنے فرائض سے غفلت برتنے اور عمارت تعمیر کرنے والوں سے مبینہ ساز باز کرنے پر معطل کر دیا گیا ہے۔
مقامی پولیس کمشنر راگونشی کے مطابق عمارت کے مالکان کوگرفتار کرنے کے لیے کارروائی کی جا رہی ہے۔
امدادی کارکنوں نے بھاری مشینری سے جمعے کی رات اور سنیچر کو سار دن تلاش کا کام جاری رکھا جبکہ سونگھنے والے کتوں کی مدد سے بچ جانے والوں کی تلاش کا کام بھی جاری رہا۔
اطلاعات کے مطابق سو کے قریب افراد کو عمارت کے ملبے تلے سے زندہ نکال لیا گیا تھا جن میں ایک دس ماہ کی بچی بھی شامل تھی۔
اس بچی کے والدین اطلاعات کے مطابق اب تک نہیں مل سکے ہیں۔
ایک پولیس اہلکار نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو جمعے بتایا تھا کہ جمعرات کی شام کو عمارت کا ایک حصہ منہدم ہوا اور اس کے نتیجے میں عمارت کا پورا ڈھانچہ زمین بوس ہو گیا جبکہ ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ عمارت بظاہر ناقص تعمیراتی سامان استعمال کرنے کے باعث منہدم ہوئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ شہر میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور رہائشی عمارتوں کی طلب کی وجہ سے اسی طرح کی کئی غیرقانونی عمارتیں زیرِ تعمیر ہیں۔
بھارت میں ناقص تعمیراتی سامان اور طریقۂ کار کی وجہ سے عمارتیں گرنے کے واقعات اکثر پیش آتے رہتے ہیں۔
بی بی سی اردو
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان