انھوں نے یہ بات ایک جرمن روزنامے سیدوش زیتونگ میں منگل کو شائع ہونے والے انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے انٹرویو میں طالبان سے حکام کے وقفے وقفے سے رابطوں کی تصدیق کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کا آئین تمام افغانوں کے لیے موثر ہے اور طالبان کو بھی اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
صدر کرزئی سے جب سوال کیا گیا کہ کیا ملا عمر افغانستان کے صدر بن سکتے ہیں تو ان کا جواب تھا کہ ”وہ صدارتی انتخابات میں امیدوار بن سکتے ہیں اور وہ افغانوں کو اس طرح موقع دیں کہ وہ ان کے حق یا مخالفت میں ووٹ دیں”۔
افغان صدر نے گذشتہ اتوار کو دوحہ میں امیر قطرشیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی سے ملاقات کی تھی اور ان سے طالبان مزاحمت کاروں سے مذاکرات کے لیے ان کا رابطہ دفتر کھولنے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا تھا۔
حامد کرزئی ماضی میں دوحہ میں افغانستان کے سابق حکمراں طالبان کے لیے رابطہ دفتر کھولنے کی مخالفت کرتے رہے ہیں کیونکہ انھیں اس بات کا خدشہ تھا کہ طالبان جنگجوؤں اور امریکا کے درمیان براہ راست مذاکرات کے عمل میں ان کی حکومت کو سائیڈ لائن کیا جاسکتا ہے اور مستقبل میں ان کے درمیان کسی ممکنہ امن معاہدے کی صورت میں ان کا قد کاٹھ کم ہوسکتا ہے۔
لیکن حال ہی میں انھوں نے پہلی مرتبہ بعض شرائط کے ساتھ طالبان کے دوحہ میں رابطہ دفتر کے قیام کی حمایت کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ اگر طالبان تشدد کی مذمت کریں،القاعدہ سے اپنا ناتا توڑ لیں اور افغان آئین کو تسلیم کریں تو وہ ان کے ساتھ مذاکرات کو تیار ہیں۔ان کا یہ بھِی کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ بات چیت میں ان کے مقررکردہ مذاکرات کاروں کو مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔
افغان صدر کے ترجمان ایمل فیضی کے بہ قول طالبان کا رابطہ دفتر بعض شرائط کے تحت کھولا جانا چاہیے۔یہ صرف مسلح حزب اختلاف اور افغان حکومت کے مل بیٹھنے کی ایک جگہ ،ایک پتا ہونا چاہیے۔اس کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب افغان طالبان صدرکرزئی کی حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے انکار کرچکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ حامد کرزئی کی حیثیت امریکا کے ایک کٹھ پتلی کی ہے۔اگر طالبان اب افغان صدر یا اعلیٰ امن کونسل کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات سے انکار کردیتے ہیں تو قطر میں کھولے جانے والے دفتر کی کوئی اہمیت یا افادیت نہیں رہے گی۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ،ایجنسیاں
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…