پاکستان سمیت دنیا کے ایک سو چون ممالک نے اس قانون کے حق میں ووٹ دیا۔ ایران، شمالی کوریا اور شام نے اس قانون کی مخالفت میں ووٹ ڈالا۔
دنیا میں ہر سال آٹھ ارب ڈالر سے زیادہ اسلحے کی فروخت کرنے والے ملک امریکہ نے اس قانون کے حق میں ووٹ دیا ہے جبکہ روس اور چین سمیت تیئس ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
روس نے کہا کہ وہ اس قانون پر حتمی دستخط کرنےسے پہلے اس کا باریکی سے جائزہ لےگا
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے معاہدے کی منظوری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ اسلحے کی غیر قانونی تجارت کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوگا، ’اور دہشت گردوں، قزاقوں، جنگی سرداروں اور جرائم پیشہ افراد کے لیے اسلحے کا حصول مشکل ہوجائے گا۔‘
اب سے پہلے روایتی اسلحے کی تجارت کو ریگولیٹ کرنے سے متعلق کوئی عالمی معاہدہ موجود نہیں تھا۔
ایک اندازے کے مطابق سالانہ بنیادوں پر اسلحے کی تجارت کا حجم 70 ارب ڈالر کے برابر ہے۔
امریکہ ہر سال آٹھ ارب ڈالر سے زائد مالیت کا اسلحہ فروخـت کرتا ہے جبکہ روس اور چین سالانہ ایک ایک ارب ڈالرسے زیادہ اسلحے کی تجارت کرتے ہیں۔
بی بی سی اردو
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار