سُبْحَانَ اَللّہِ الْعظِیْمِ ط وَبِحَمْدِہ لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَِّا بِاللّہ :۔
تو اللہ تعالیٰ تجھے چار بیماریوں سے نجات عطا فرمائیں گے (جزام ) (کوڑھ) جنون (پاگل پن)اندھا پن اور فالج اور اپنی آخرت کے لئے یہ دعا پڑھا کرو۔
اَلَّھُمَّ اِھْدِنِی مِنْ عِنْدِکَ وَاَفِضْ عَلَیَّ مِنْ فَضْلِکَ وَاَسْبِغْ عَلَیَّ مِنْ رَحْمَتِکَ وَاَنْزِلْ عَلَیَّ مِنْ بَرَکَاتِکَ:۔
اے اللہ مجھے وہ ھدایت دے جو تیری خاص ھدایت ہو اور میرے اوپر وہ فضل بہادے جو تیرا خاص فضل ہو ااور مجھ پر اپنی رحمت کامل فرما اور اپنی برکتیں نازل فرما قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے جو اس دعا کو قیامت کے روز لے کر آئے گا یعنی جو پابندی سے پڑھتا رہے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے چار دروازے جنت کے کھول دیں گے جس میں سے چاہے داخل ہو جائے۔
(تمام برے امراض سے حفاظت کی دعا)
اَلَّھُمَّ اِنِیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ الْبَرْصِ وَالْجَنُوْنِ والْجُذَامِ وَسیِّءِ الْاَسْقَامِ :۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ؐ یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ جس کا ترجمہ یہ کہ اے اللہ میں آپکی پناہ چاہتا ہوں برص سے پاگل پن سے کوڑھ سے اور تمام برے امراض سے۔
(خیروعافیت کے لئے دعا)
اَلَّھُمَّ اِنِیْ اَسْئَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِی دِینِیْ وَ دُنْیَایَ وَاَھْلِیْ وَمَالِیْ۔
اے اللہ میں آپ سے معافی مانگتا ہوں اور عافیت مانگتا ہوں اپنے دین میں اور دنیا میں اور اپنے گھر والوں کی اور اپنے مال کی (صحت و عافیت کے لئے دعا)
اَلَّھُمَّ عَافِنیْ فیْ بَدَنِی اَلَّھُمَّ عَافِنیْ فِیْ سَمَعِی اَلَّھُمَّ عَافِنیْ فیْ بَصَرِیْ لَااِلہ َ اِلَّا اَنْتَ۔الہی مجھ کو میرے بدن میں عافیت دے الہی مجھ کو میرے سننے میں عافیت دے الہی مجھ کو میرے دیکھنے میں عافیت دے تیرے سوا کوئی لائق عبادت نہیں۔
یَااَللّہُ یَارَحْمانُ یَارَحِیْمُ اِیَّۤاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّّاکَ نَسْتَعِیْنْاول آخر درود شریف ١٠١ مرتبہ
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…