جبکہ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ شام کا تنازع پورے مشرق وسطیٰ میں پھیلنے کا حقیقی امکان ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر بشارالاسد کی حامی سرکاری فورسز نے دمشق، حمص، خالدیہ ، بابا امر اور دیگر جگہوں پر باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے جس میں 82 افراد ہلاک ہوگئے جن میں 40 شہری شامل ہیں۔ دریں اثناء شام میں نماز جمعہ کے بعد ہزاروں افراد نے صدر بشارالاسد کیخلاف مظاہرے کیے ہیں، مظاہرے دمشق، حلب ، درعا اور دیگر چھوڑے بڑے شہروں میں ہوئے، اے ایف پی کے مطابق شامی باغی اگلے ہفتے ترک شہر استنبول میں اجلاس بلانے کا سوچ رہے ہیں۔
جس میں وہ شام میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں کیلیے باغی وزیر اعظم کی نامزد گی پر غور کریں گے۔ ادھر اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے نے شام میں جاری تنازع کے دو سال مکمل ہونے پر ایک بیان میں خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس تنازع کا پورے مشرق وسطیٰ میں پھیلنے کا حقیقی امکان ہے، اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کے ہائی کمشنر انٹونیو گیوٹیریس نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ دنیا میں امن اور سلامتی کیلیے تنازع کے خاتمے کیلیے اپنا کردار ادا کرے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر شام کے لوگوں کی مدد کرے، انھوں نے کہا کہ میرا نقطہ نظر ہے کہ اگر یہ تنازع جاری رہا تو اس کے مشرق وسطیٰ میں پھیلنے کا حقیقی امکان ہے، اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اب تک 11 لاکھ سے زائد شامی باشندے شام سے ہجرت کر چکے ہیں۔ شام میں 700 ملین ڈالر امداد کی فوری ضرورت ہے۔
ایکسپریس نیوز
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید