جامع مسجدمکی میں اکٹھے ہونے والے سینکڑوں سنی طلبا و دانشوروں سے خطاب کرتے ہوئے خطیب اہل سنت نے کہا: نام نہاد عالمی برادری جو انسانی حقوق واقدار اور جمہوریت کی پاسداری کا دعویدار ہے خاموشی سے دیکھ رہی ہے کیسے دن دیہاڑے ہزاروں مسلمان مختلف ممالک میں قتل ہورہے ہیں۔ ان کا یہ دعویٰ جھوٹ کا پلندہ ہے؛ چونکہ وہ اپنی خاموشی سے انسانیت کے دشمن حکام کو اجازت دیتے ہیں کہ خونِ مسلم سے اپنے نامہ اعمال کو مزید سیاہ کردیں۔ یہ لوگ کیوں قتل ہورہے ہیں؟ ان کا قصور کیاہے؟ وہ صرف آزادی اور انسانی کرامت و عزت چاہتے ہیں۔ ان کی یہ تحریک ہرگز نہیں رکے گی۔ مشرق وسطی کے عوام کا قیام انصاف اور آزادی کیلیے ہے۔ سب سے زیادہ کامیاب اور خوش قسمت حکمران وہی ہے جو اپنے عوام کو ان کے حقوق دلوائے اور ان کی آزادی کا خیال رکھ کر برابری کا معاملہ کرے۔
سالانہ اجتماع میں شرکت کرنے والے یونیورسٹیوں کے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام نے کہا: اہل سنت کے طلبہ بعض حکام کے رویے سے ناامید نہ ہوجائیں، انہیں اپنی تعلیم جاری رکھنی چاہیے۔ حالات ایک جیسے نہیں رہیں گے۔
انہوں نے مزیدکہا: ہماری راہ ’اعتدال‘ اور ’باہمی مکالمے‘ کی ہے؛ ہم تشدد اور کشت وخون پر یقین نہیں رکھتے۔ اگر کوئی ہم سے بات چیت کرے ہم بھی ہاتھ بڑھائیں گے۔ ہم نے کئی مرتبہ تشدد کرنے والوں کیخلاف موقف اختیار کیاہے۔
ایرانی اہل سنت کے نامور عالم دین نے کہا: ہم نے کبھی بھی قانون سے بڑھ کر کوئی بات زبان پر نہیں لائی ہے۔ ہمارے تمام مطالبات آئین کے حدود میں ہیں۔ اگر ہم ایران میں اہل سنت کی عزت و کرامت کا مطالبہ کرتے ہیں تو یہ کوئی حق سے زیادہ کی بات نہیں ہے۔ انقلاب سے چونتیس برس گزرچکاہے؛ پھر بھی بعض حکام کہتے ہیں ہمیں مزید وقت درکارہے! کیا کسی برادری کے حقوق دینے کیلیے 34 سال کافی نہیں ہے؟ کتنی مہلت چاہیے؟ ہم عہدہ و اقتدار کے پیاسے نہیں ہیں۔ اہل سنت کی تحقیر نہیں ہونی چاہیے۔ روزگار کی تقسیم میں انہیں نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: ہم حکومت کا تخت الٹ دینے کی کوشش نہیں کرتے؛ ہمارا خیال ہے اسلامی جمہوریہ ایک ’موقع‘ ہے بشرطیکہ تمام اقوام اور مسالک ومذاہب کے پیروکاروں پر مساوی توجہ دی جائے۔ اسلام اور ہمارے قومی آئین نے لوگوں کے سیاسی، معاشرتی اور دینی حقوق اور آزادی پر تاکید کی ہے۔ ہمارا مطالبہ یہی ہے کہ آئین کا پورا نفاذ ہونا چاہیے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا: ایران کے سنی مسلمان یہاں مہاجر اور پناہ گزین نہیں ہیں، ہم اسی ملک کے وارث اور مالک ہیں۔ جب یہاں شاہ اور رضاشاہ کی فوجیں نہ تھیں ہمارے آباؤ اجداد نے اس ملک کی سرحدات کی حفاظت کی ذمہ داری پوری کی۔ ہم ایران کے شاہوں اور حکومتوں سے قبل یہاں آباد تھے، یہ ملک ہمارا ہے اور ہمیں اپنے ملک کی تقدیر میں حصہ دار ہونا چاہیے۔ اگر کوئی حکومت مخصوص مسلکی منظر سے اپنے عوام میں تفریق لائے وہ ہرگز کامیاب حکومت نہیں ہوگی۔ کوئی مخصوص فرقہ، مذہب یا سیاسی ونگ بلاشرکت غیر ملک نہیں چلاسکتا۔ اقلیتوں کے حقوق کا خیال رکھنا ہوگا۔
سرپرست شورائے ہم آہنگی مدارس اہل سنت نے مزیدکہا: بعض انتہاپسند عناصر کی ویب سائٹس افواہوں اور جھوٹ کے سہارے ہماری کردارکشی کی باطل کوشش کرتے ہیں، ان کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنی صحیح اور درست راہ کو چھوڑکر ان کی طرح انتہاپسندی کا مظاہرہ کریں۔ لیکن ہم اعتدال کے راستے سے نہیں ہٹیں گے، ہمارا خیال ہے رجیم کی خیر اسی میں ہے کہ تمام قومیتوں اور مسالک کے حقوق کی پاسداری کرے۔
انہوں نے مزیدکہا: ’حق‘ میڈیا کے شورمچانے سے ناپید نہیں ہوسکتا۔ ہم غدار نہیں ہیں، ہم اسلام اور اپنے وطن کے خادم ہیں، ہمیں جاہ ومقام نہیں بلکہ خدمت کا موقع دینا چاہیے۔ ہمارے تعلیم یافتہ اور متخصص و ماہر افراد سے کام لینا چاہیے۔
بعض یونیورسٹیوں کے طلبہ کو زاہدان آنے سے روک دینے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام نے کہا: اگر یونیورسٹیوں کے دروازے ہمارے لیے کھول دیے جاتے ہم خود اپنے فرزندوں کے پاس چلے جاتے اور ان سے ملاقات کرتے، لیکن ایسا ممکن نہیں ہے۔ یہاں طلبہ دین کی بات سننے کیلیے اکٹھے ہوتے ہیں اور انہیں تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ متعدد طلبہ کو زاہدان پہنچنے سے روک دیا گیاہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…