انسانی حقوق کے حوالے سے سرگرم ذرائع کے مطابق ’’اسماء چشمہ کبودی‘‘ کا تعلق ’تحریک مکتب قرآن‘ سے ہے، انہیں وزارت انٹیلیجنس کے حکام کے حکم پر اعلی تعلیم سے محروم کردیاگیا۔
میتھمیٹیکل میں پی ایچ ڈی کرنے والی سنی طالبہ کو تیرہ فروری2013ء میں باقاعدہ اطلاع دی گئی کہ انہیں بعض مذہبی لٹریچرز کی تقسیم کے الزام میں اخراج کیاگیاہے۔ اسماء چشمہ کبودی ’کردستان یونیورسیٹی‘ میں زیرتعلیم تھیں۔
اعلی تعلیم سے محروم طالبہ پر الزام ہے کہ انہوں نے ممتازتعلیمی تحریک ’مکتب قرآن‘ سے تعلق قائم کرکے ’سنی ڈاکٹرز کی اسناد کی منسوخی‘، ’کرد سنی مسلمانوں پر قومی ومذہبی مظالم‘ اور ’ایرانی اہل سنت کیخلاف کریک ڈاؤن‘ جیسے امور پر اعتراض و احتجاج کیاہے۔
یادرہے اسماء چشمہ کبودی کاتعلق سنندج سے ہے اور ’کامیاران‘ نامی شہر کے ایک گرلزہائی سکول میں وہ ریاضی کی ٹیچر ہیں۔ ریاضی میں اعلی نمبرز سے ایم اے کرنے کے بعد آپ کردستان یونیورسیٹی میں ڈاکٹریٹ ٹیسٹ میں کامیاب ہوئیں۔
اس سے قبل بھی ’مکتب قرآن‘ سے تعلق کے الزام پر متعدد سنی ڈاکٹرز کے لائسنس اور سرٹیفیکٹس منسوخ کردیے گیے ہیں جبکہ دودرجن کے قریب سنی اساتذہ کی تدریس پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
سنی آن لائن+ہرانا
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…