Categories: عالم اسلام

بنگلہ دیش میں احتجاج جاری، پینتالیس ہلاک

بنگلہ دیش میں جنگی جرائم کے ایک ٹربیونل کی جانب سے جماعت اسلامی کے رہنما دلاور حسین کو سزائے موت دینے کے بعد احتجاج اور ہنگاموں کا سلسلہ جاری ہے۔ جس میں ہلاکتوں کی تعداد پینتالیس ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ جمعرات کو ٹربیونل نے جماعت اسلامی کے رہنما دلاور حسین کو سنہ 1971 کی جنگ آزادی کے دوران جرائم میں ملوث ہونے کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی۔
اس فیصلے کے بعد جمعرات سے شروع ہونے والے پرتشدد واقعات میں پینتالیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
ملک کے مختلف حصوں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید لڑائی ہوئی ہے۔
چٹاکانگ میں سنیچر کو تین افراد ہلاک ہوگئے۔ جماعتِ اسلامی کے کارکنوں نے پولیس پر بغیر اشتعال کے گولی چلانے کا الزام لگایا ہے۔
بنگلہ دیش کی حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ پولیس افسروں اور عوام کے خلاف تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا۔
چٹاگانگ شہر میں ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جمعرات کو سنائے جانے والے سزائے موت کے فیصلے کے بعد جاری پر تشدد احتجاج میں کوئی کمی نہیں آئی۔
امریکہ نے بنگلہ دیش میں جاری پر تشدد واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور مظاہرین کو پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔
دلاور حسین سیدی جماعت اسلامی کے سب سے سینیئر رہنما ہیں جنہیں ٹربیونل کی جانب سے سزائے موت سنائی گئی ہے۔
ان کو جون سنہ دو ہزار دس میں گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں سنہ 1971 کی جنگ آزادی کے دوران قتل عام، ریپ اور دیگر الزامات میں قصور وار ٹھہرایا گیا تھا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ دلاور حسین سیدی اور دیگر رہنماؤں پر سیاسی بنیادوں پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
دوسری طرف گزشتہ بدھ کو دارالحکومت ڈھاکہ میں ہزاروں افراد نے جماعت اسلامی کے رہنما کو سزائے موت دینے کے حق میں مظاہرہ کیا تھا۔
جنگی جرائم کے الزام کے تحت جن افراد کے خلاف مقدمہ چلایا جا رہا ہے ان میں سے آٹھ کا تعلق جماعت اسلامی جبکہ دو کا تعلق حزب اختلاف کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی سے ہے۔ اب تک تین رہنماؤں کے خلاف فیصلہ سنایا جا چکا ہے۔
دلاور حسین سیدی پر الزام ہے کہ وہ جنگ آزادی کے دوران البدرگروپ کے ساتھ کام کر رہے تھے اور انہوں نے ہندو برادری کے افراد کو زبردستی مسلمان کرنے سمیت متعدد مظالم کیے۔
اس سے پہلے رواں ماہ بنگلہ دیشی پارلیمان نے آئین میں ایک ایسی ترمیم منظور کی تھی جس کے تحت جماعت اسلامی پر سنہ 1971 کی جنگ آزادی کی مخالفت کرنے اور انسانیت کےخلاف جرائم کا ارتکاب کےجرم میں پابندی عائد کی جا سکے گی۔
اس ترمیم کے تحت جماعت اسلامی کے ایک رہنما عبد القادر ملا کو دی جانے والی عمر قید کی سزا کو موت سزا میں تبدیل کرانے کے لیے حکومت اپیل دائر کر سکے گی۔
بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ اس نے سنہ 1971 کی جنگ آزادی میں پاکستان کا ساتھ دیا تھا۔
بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی اس حزب مخالف کا حصہ ہے جو وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کا سخت مخالف سمجھا جاتا ہے۔
حکام کا اندازہ ہے کہ 1971 کی جنگ کے دوران تیس لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔

بی بی سی اردو

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago