مصر کی نیو اربن کمیونٹیز اتھارٹیز (این یو سی اے) کے نائب صدر نبیل عباس نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ”ان کے ادارے نے شراب کی فروخت کے لیے لائسنسوں کی تجدید روک دی ہے لیکن موجودہ لائسنس اپنی مدت تک جاری رہیں گے”۔
مصر کے موجودہ قانون کے تحت صرف لائسنس یافتہ دکانوں پر ہی شراب فروخت کی جا سکتی ہے۔ نبیل عباس نے اپنے بیان میں کہا کہ شراب نوشی کی عادت سے ملک میں غلط روی کو فروغ ملا ہے اور خاص طور پر خواتین پر حملوں اور لوگوں کے گھروں کی گھنٹیاں بجانے کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔
تاہم احمد عبدالحیی نامی ایک شہری نے نبیل عباس کے بیان کو مکمل طور پر نادرست قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ العربیہ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اخوان المسلمون کے مخالف اس شہری کا کہنا تھا کہ مصریوں کی بہت کم تعداد بھاری مقدار میں شراب نوشی کرتی ہے۔ یہ لوگ اتنے زیادہ مسائل پیدا نہیں کرتے کہ حکومت کو اس مسئلے کی جانب اتنی زیادہ توجہ مرکوز کرنا پڑی ہے۔
آزاد خیال مسٹر عبدالحیی نے شراب کی فروخت پر قدغنیں عاید کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ حکام اس طریقے سے معاشرے پر اپنے نقطہ نظر کو مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
صدر محمد مرسی کی حکومت نے دسمبر 2012ء میں شراب پر عاید ٹیکسوں میں اضافہ کر دیا تھا لیکن بعض حلقوں کی جانب سے تنقید کے بعد انھوں نے اس اقدام کو واپس لے لیا تھا۔
جب شہری عبدالحیی سے پوچھا گیا کہ کیا نئی تجویز پر عمل درآمد کی صورت میں کوئی سخت ردعمل ہو گا تو ان کا کہنا تھا کہ نہیں، کیونکہ جو لوگ شراب نوشی کے عادی ہیں، وہ اس بات سے بھی آگاہ ہیں کہ انھیں کہاں کہاں سے شراب مل سکتی ہے۔
سیاحتی صنعت
دوسری جانب مصر کے ٹریول ایجنٹس کی ایسوسی ایشن کے ایک رکن کریم محسن کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے ہوٹلوں اور ریستورانوں میں بھی شراب کی فروخت پر پابندی عاید کی تو اس سے سیاحت کی صنعت بری طرح متاثر ہو گی۔
واضح رہے کہ مصر میں سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے دوران سیاحت کا شعبہ بری طرح متاثر ہوا تھا اور ہر سال مصر آنے والے سیاحوں کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی تھی۔
اب اس سیاحت سے وابستہ کاروباری شخصیات کا کہنا ہے کہ شراب کی فروخت پر پابندی سے غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں مزید کمی واقع ہو جائے گی۔ مصر میں پہلے ہر سال ڈیڑھ کروڑ غیر ملکی سیاحوں کی آمد ہوتی تھی۔اب ان کی تعداد کم ہو کر محض تیس لاکھ رہ گئی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…