حلب کے مختلف علاقوں میں قبضے کے لیے گذشتہ کئی ہفتوں سے شامی فوج اور باغی جنگجوؤں پر مشتمل جیش الحر کے درمیان شدید لڑائی ہورہی ہے۔ منگل کو باغیوں کے راکٹ حملے کے بعد پچیس افراد لاپتا ہو گئے ہیں۔
درایں اثناء یہ اطلاع سامنے آئی ہے کہ شامی فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان شدید لڑائی سے متاثر ہونے والے سیکڑوں شہری اپنا گھر بار چھوڑ کر غیر قانونی سرحدی راستوں سے پڑوسی ملک اردن میں داخل ہورہے ہیں۔شام اور اردن کے درمیان سرحد پر پینتالیس گذرگاہیں بنائی گئی ہیں۔ان کے علاوہ بھی غیر قانونی راستوں سے شامی مہاجرین اردن کی جانب جا رہے ہیں جس کی وجہ سے اردنی فوج کی ذمے داریوں میں اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ خانہ جنگی کا شکار ملک سے آنے والوں میں ایک بڑی تعداد زخمی افراد کی بھی ہے۔
اردن کے شمال میں واقع علاقے الزعتری میں مہاجرین کے کیمپ میں اس وقت چورانوے ہزار شامی رہ رہے ہیں اور ہر روز قریبا ڈیڑھ ہزار افراد کی اردن میں آمد ہو رہی ہے۔ان میں زیادہ تر شام کے جنوبی صوبے درعا سے آ رہے ہیں۔
اردنی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے ہاں اس وقت تین لاکھ اڑسٹھ ہزار سے زیادہ شامی مہاجرین پناہ گزین کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ان میں اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام کے تحت روزانہ اٹھارہ ٹن کھانے پینے کی اشیاء تقسیم کی جا رہی ہیں۔ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے اردن میں پناہ گزین شامی مہاجرین کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے گذشتہ ماہ ایک کروڑ ڈالرز کی امداد دی تھی۔
شام میں مارچ 2011ء سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں سات لاکھ ستاسی ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہو کر مہاجرت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق دو لاکھ اسی ہزار شامی شہری لبنان کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں عارضی خیموں یا کرائے کے مکینوں یا لبنانی خاندانوں کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ باقی شامی مہاجرین خطے کے دوسرے ممالک ترکی اور عراق وغیرہ میں رہ رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسیف کا کہنا ہے کہ سات لاکھ سے زیادہ شامی مہاجرین میں نصف تعداد بچوں کی ہے اور ان میں سے بھی ایک چوتھائی چار سال کے کم عمر کے شیر خوار شامل ہیں۔ ان میں ایک بڑی تعداد شدید سرد موسم کی وجہ سے مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ شامی مہاجرین کی مدد کے لیے متعدد مرتبہ اپیلیں کر چکی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…