العربیہ ٹی وی کے مطابق الانبار کی عوامی اور کوآرڈی نیشن کمیٹیوں نے سیکیورٹی کی صورتحال کے پیش نظر عراقی دارالحکومت بغداد کی جامع الامام الاعظم مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے مارچ ملتوی کر دیا ہے۔
مارچ ملتوی کرنے کا اعلان عراق کے سرکردہ دینی رہنماؤں کے ان خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے کہ منصوبے پر عملدرآمد کی صورت میں سیکیورٹی اداروں کے ساتھ جھڑپوں کا امکان ہے۔
عراقی بری فوج کے سربراہ جنرل علی غیدان نے احتجاجی مظاہرے کی کال دینے والی کوآرڈی نیشن کمیٹیوں کے ارکان، صوبے کے پولیس سربراہ، الانبار کے آپریشنل کمانڈر اور سنی ٹرسٹ کے ڈائریکٹر سے ملاقات کی۔ ملاقات کا مقصد مظاہرین کے مطالبات کا جائزہ لیتے ہوئے تمام فریقوں کے لئے مسائل کے حل کی درمیانی راہ تلاش کرنا تھا۔
جنرل غیدان نے بتایا کہ میرے فوجی یونٹس کے پاس مختلف گورنریوں سے بغداد جانے اور واپس آنے والے مظاہرین کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے نفری اور وسائل موجود نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انٹیلی جنس رپورٹس کی روشنی میں ہم نے سترہ اشتہاری ملزموں کو گرفتار کیا ہے جو مظاہروں کو تاراج کرنے کا منصوبہ بنائے ہوئے تھے۔
العربیہ نیوز
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید