شام کیلیے انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ شمال مغرب صوبے میں جمعرات کو دو مختلف واقعات رونما ہوئے۔
برطانوی تنظیم کا کہنا ہے کہ حکومتی حامی مسلح افراد نے صوبے کے دارالحکومت جانے والی چار منی بسوں میں سوار خواتین سمیت 70 افراد کو آرمی کی چوکی کے قریب اغوا کر لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اغوا کاروں کا تعلق شیعہ آبادی والے گاؤں الفوا اور کفریا سے ہے جبکہ جن لوگوں کو اگوا کیا گیا، ان میں سے اکثر کا تعلق سنی اکثریتی آبادی والے گاؤں سراقیب، سرمین اور بنیش سے ہے۔
تنظیم نے مزید بتایا کہ اس واقعے سے چند گھنٹے قبل مسلح افراد نے تقریباً 40 شہریوں کو اغوا کر لیا جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔ ان تمام افراد کا تعلق الفوا اور کفریا گاؤں سے تھا۔
یاد رہے کہ حکومتی افواج سے لڑائی کرنے والے باغیوں کا تعلق سنی مکتبہ فکر سے ہے جبکہ دوسری جانب حکومتی حامی افراد کی اکثریت شیعہ بتائی جاتی ہے۔
تنظیم کے ڈائریکٹر رمی عبدالرحمان نے کہا کہ مجھے فرقہ وارانہ بنیادوں پر اغوا کیے جانے کی وارداتوں میں اضافے کا خدشہ ہے اور یہ چیزیں انقلاب کیلیے نقصان دہ ہیں۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 23 ماہ قبل مارچ 2011 میں شروع ہونے والے اس تنازع میں اب تک 70 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ڈان نیوز
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…