جمعہ کو بدامنی کے تازہ مرحلے میں جماعت کے تین سپورٹرسمیت چار افراد ہلاک ہوگئے۔ جنگی جرائم کے خلاف قائم کردہ مقدمات کے خلاف شروع ہونے والے فسادات نے ملک کے مقبول ترین سیاحتی مقام کاکس بازارکو بھی لپیٹ میں لے لیا۔
پولیس کے مطابق حزب مخالف کی جماعت اسلامی کے لگ بھگ5 ہزارکارکنوں نے اپنے رہنماؤں کے خلاف قائم مقدمات پراحتجاج کے لیے سڑکوں کا رخ کیا جس نے پرتشدد شکل اختیارکرلی اس دوران مظاہرین نے گھریلو ساختہ آتشی اسلحہ، بموں اور پتھروں سے سیکورٹی فورسز پرحملے شروع کردیے، ہم نے اپنے دفاع میں فائرنگ کی۔
مقامی پولیس فورس کے سربراہ جسیم الدین کے مطابق مظاہرین نے اچانک حملہ کیا، مرنے والوں میں تین کوگولیاں لگی ہیں۔
جنگ نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…