جمعہ کو بدامنی کے تازہ مرحلے میں جماعت کے تین سپورٹرسمیت چار افراد ہلاک ہوگئے۔ جنگی جرائم کے خلاف قائم کردہ مقدمات کے خلاف شروع ہونے والے فسادات نے ملک کے مقبول ترین سیاحتی مقام کاکس بازارکو بھی لپیٹ میں لے لیا۔
پولیس کے مطابق حزب مخالف کی جماعت اسلامی کے لگ بھگ5 ہزارکارکنوں نے اپنے رہنماؤں کے خلاف قائم مقدمات پراحتجاج کے لیے سڑکوں کا رخ کیا جس نے پرتشدد شکل اختیارکرلی اس دوران مظاہرین نے گھریلو ساختہ آتشی اسلحہ، بموں اور پتھروں سے سیکورٹی فورسز پرحملے شروع کردیے، ہم نے اپنے دفاع میں فائرنگ کی۔
مقامی پولیس فورس کے سربراہ جسیم الدین کے مطابق مظاہرین نے اچانک حملہ کیا، مرنے والوں میں تین کوگولیاں لگی ہیں۔
جنگ نیوز
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…