بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق یہ جھڑپیں مرکزی پولیس کے دفتر کے قریب سے شروع ہوئیں اور بعد میں مزید علاقوں میں پھیل گئیں۔
اس سے قبل گزشتہ روز ایک خود کش حملہ آور نے اپنے آپ کو شہر کی شمالی داخلی راستے پر اڑا لیا جو کہ مالی میں دو روز میں دوسرا خود کش حملہ ہے۔
یاد رہے کہ گاؤ شہر پر فرانس اور مالی کی افواج نے دو ہفتے قبل قبضہ کیا تھا اور عسکریت پسندوں کو شہر سے نکال باہر کیا تھا مگر ان جھڑپوں میں ان عسکریت پسندوں کو پہلی بار کھلے عام شہر کی سڑکوں پر دیکھا گیا ہے۔
خود کش حملے کے بعد شہر میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور فوجی گشت بڑھا دیا گیا ہے جبکہ مختلف جگہوں پر ناکے لگائے گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سنیچر اور اتوار کو کیے گئے خود کش حملے اور مالی کی افواج پر اتوار کیے گئے حملے کی زمہ داری ایک گروہ ’مغربی افریقہ میں تحریک وحدت اور جہاد‘ نے قبول کی۔
سنیچر کو اس تنظیم کے ترجمان ولید صحراوی نے کہا کہ ’ہم فرانس اور اس کے اتحادیوں کے خلاف مزید حملے کرنے کا عہد کرتے ہیں۔‘
گاؤ میں بی بی سی کے نامہ نگار ٹوماس فیسی نے کہا کہ اتوار کو ہونے والی لڑائی مرکزی پولیس کے دفتر کے قریب شروع ہوئی جو شہر کے مرکز میں واقع ہے مگر اس کے بعد تمام اطراف سے فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔
مالی کی سرکاری افواج کے ایک اہلکار نے ٹوماس کو بتایا کہ کچھ مسلح افراد موٹر سائیکلوں پر سوار شہر میں پھر رہے ہیں۔
ہمارے نمائندے کے مطابق لوگ اپنے گھروں میں محصور ہیں اور صورتحال ابھی تک غیر واضح ہے مگر یہ بات کہ عسکریت پسند کسی طریقے سے گاؤ شہر میں گھس آئے ہیں اب ایک حقیقت لگتی ہے کیونکہ اب وہ ایک گوریلا جنگ لڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
اس بارے میں ابھی تک مالی یا فرانس کی فوج میں سے کسی نے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
بی بی سی اردو
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام