ہر گزرتے دن کے ساتھ شامی تنازع میں وطن چھوڑنے پر مجبور فلسطینیوں کی اموات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ورکنگ گروپ برائے فلسطینی پناہ گزیں نے بتایا کہ شامی فوج نے خان الشیخ کیمپ اور حسینیہ کیمپ کا محاصرہ سخت کر دیا ہے۔ ادھر یرموک کے گھیراؤ کو 49 دن گزر چکے ہیں اور کیمپ کے رہائشیوں کی حالت بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔
شام کی سرکاری فوج کی جانب سے فائرنگ کے تازہ واقعات میں مزید چھ فلسطینی جام شہادت نوش کر گئے ، شہید ہونے والوں میں خمیس عزیز جیش الحر اور سرکاری فوج کے درمیان جھڑپوں کی زد میں آ کر چل بسے، وہ فلسطینی ریڈ کراس کے شامی ونگ کے کارکن تھے۔ یرموک کیمپ کے عمر عدنان مصلح کو روڈ 30 پر فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ گولہ باری کی زد میں آکر زخمی ہونے والے علی العادی بھی شہادت پا گئے، ان کا تعلق بھی یرموک کیمپ سے تھا۔ یرموک کیمپ کے ہی احمد فاروق الزین بھی گزشتہ پیر کے روز کیمپ پر کی گئی گولہ باری میں زخمی ہوئے تھے جو آج زخموں کی تاب نہ لا سکے۔ اسماعیل غازی دمشق کے قریبی علاقے زملکا سے تعلق رکھتے تھے۔ انہیں دمشق کے مضافات میں ہی شہید کیا گیا۔ شہید ہونے والے چھٹے فلسطینی عبد الرحمن محمود رزق تھے جن کا تعلق العائدین مہاجر کیمپ سے تھا۔
ورکنگ گروپ برائے فلسطینی پناہ گزیں نے بتایا کہ خان الشیخ کیمپ کی مشرقی جانب دو راکٹ داغے گئے ہیں جس سے متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ شامی سرکاری فوج کیمپ کے اطراف اور دروشا کے علاقے میں گشت کر رہی ہے اور علاقے کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔ حسینیہ کیمپ پر بھی متعدد راکٹوں کے گرنے کی اطلاعات ہیں۔ کیمپ کے علاقے السوق میں ھاون طرز کے تین راکٹ داغے گئے جن سے کچھ افراد زخمی ہو گئے ۔ اس راکٹ حملے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ دوسری جانب اس کیمپ کے باسیوں کی مشکلات بڑھتی جارہی ہیں، شامی فوج کے مسلسل 76 روز سے جاری محاصرے نے لوگوں کو کھانے پینے کی اشیا کی شدید قلت کا شکار کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق آج علی الصبح یرموک کیمپ کے قریب فری سیرین آرمی اور سرکاری فوج کے درمیان شدید جھڑپیں ہو گئیں۔ جھڑپیں شاہراہ فلسطین سے شروع ہوئیں اور شاہراہ راما تک پھیل گئیں۔ اس دوران فضاؤں میں شامی جنگی طیارے گشت کرتے رہے۔ کیمپ میں ھنگامی حالت کی نافذ کردی گئی۔ 49 روز سے جاری شامی فوج کے محاصرے نے کیمپ کے رہائشیوں پر فاقوں پر مجبور کر دیا ہے۔ کیمپ میں مریضوں کی حالت ناگفتہ بہ ہو چکی ہے۔
ورکنگ گروپ کے مطابق دنون کیمپ میں بھی ھنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے درمیان شدید خوف و ہراس چھایا ہوا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…