لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے جمعہ کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ وسطی شہر حماہ کے نزدیک واقع گاؤں البراق میں بدھ کو بم دھماکا ہوا تھا۔ اس علاقے پر شامی فوج کا کنٹرول ہے اور اسی وجہ سے بم دھماکے کی اطلاع تاخیر سے منظر عام پر آئی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ بس اسٹاپ پر بارود سے بھری ایک منی بس کو دھماکے سے اڑا دیا گیا تھا۔ اس وقت وہاں فیکٹری کے ملازمین چھٹی کے بعد گھر جانے کے انتظار میں کھڑے تھے۔ مرنے والوں میں گیارہ خواتین بھی شامل ہیں۔رامی عبدالرحمان کے مطابق اس فیکٹری میں فوج کے لیے ساز وسامان تیار ہوتا ہے لیکن ہتھیار نہیں بنائے جاتے۔
ان کا کہنا تھا کہ ”مرنے والے وزارت دفاع کے ملازمین تھے اور وہ تمام سویلین تھے۔ بم دھماکے میں فوج سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص ہلاک نہیں ہوا”۔
شام کے سرکاری میڈیا نے بدھ کی رات اس دھماکے کی اطلاع دی تھی اور کہا تھا کہ دہشت گردوں نے ایک فیکٹری کے نزدیک بارود سے بھری کار کو دھماکے سے اڑا دیا ہے۔ اس نے یہ نہیں بتایا تھا کہ اس فیکٹری میں کیا تیار ہوتا ہے اور نہ اس نے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں اطلاع دی تھی۔
ابھی تک کسی گروپ نے اس بم دھماکے کی ذمے داری قبول نہیں کی لیکن یہ حملہ بھی شام میں فوج اور سکیورٹی سروسز پر جنگجوؤن کے حملوں کی طرح کا تھا۔ شام میں القاعدہ سے وابستہ ایک گروپ النصرۃ محاذ نے حالیہ مہینوں میں متعدد بم حملوں کی ذمے داری قبول کی ہے۔ واضح رہے کہ امریکا نے النصرۃ محاذ کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔
درایں اثناء شام کے دارالحکومت دمشق کے مختلف علاقوں میں سرکاری فوج اور باغی جنگجوؤں پر مشتمل جیش الحر کے درمیان جمعہ کو مسلسل تیسرے روز شدید لڑائی جاری ہے۔ سرکاری فوج نے دمشق کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں گولہ باری جاری رکھی ہوئی ہے اور اس سے معظمیہ میں چھے افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…