پولیس کے مطابق بمبار نے خود کو دھماکا خیز مواد سے اس وقت اڑا لیا جب لوگ پٹ بازار کے علاقے میں واقع مسجد سے نماز پڑھ کر باہر نکل رہے تھے۔
سینئر پولیس آفیسر کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد ان لوگوں کی ہے جو مسجد سے جمعے کی نماز پڑھ کر باہر نکل رہے تھے۔
دھماکا ایک ایسے رہائشی علاقے میں ہوا جہاں اطراف میں اہل تشیع کی مسجد فیض اللہ اور اس کے ساتھ ساتھ سنی مسلک کی مسجد پردل بھی واقع ہے۔
کچھ آفیشلز کے مطابق مسجد پردل میں طالبان مخالف سنی سپریم کونسل کی اکثر میٹنگ ہوا کرتی تھی اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسی کو نشانہ بنایا گیا ہو گا۔
ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ آیا دھماکے میں اسی مسلک کے افراد کو نشانہ بنایا گیا تھا کیونکہ مرنے والوں میں سنی اور شیعہ دونوں مسالک کے لوگ شامل ہیں۔
تاہم ڈی پی او ڈاکٹر محمد سعید کا کہنا ہے کہ حملے میں اہل تشیع کو نشانہ بنایا گیا لیکن اس سے سنی مسلک کے لوگ بھی متاثر ہوئے کیونکہ جائے وقوعہ کے اطراف میں ان کی مسجد اور دکانیں بھی موجود ہیں۔
واقعے کے خلاف آج ضلع بھر میں سوگ کا اعلان کیا گیا ہے اور تمام نجی و سرکاری تعلیمی ادارے اور کاروباری مراکز بند رہیں گے۔
ڈان+ایجنسیاں
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…