پولیس کے مطابق بمبار نے خود کو دھماکا خیز مواد سے اس وقت اڑا لیا جب لوگ پٹ بازار کے علاقے میں واقع مسجد سے نماز پڑھ کر باہر نکل رہے تھے۔
سینئر پولیس آفیسر کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد ان لوگوں کی ہے جو مسجد سے جمعے کی نماز پڑھ کر باہر نکل رہے تھے۔
دھماکا ایک ایسے رہائشی علاقے میں ہوا جہاں اطراف میں اہل تشیع کی مسجد فیض اللہ اور اس کے ساتھ ساتھ سنی مسلک کی مسجد پردل بھی واقع ہے۔
کچھ آفیشلز کے مطابق مسجد پردل میں طالبان مخالف سنی سپریم کونسل کی اکثر میٹنگ ہوا کرتی تھی اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسی کو نشانہ بنایا گیا ہو گا۔
ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ آیا دھماکے میں اسی مسلک کے افراد کو نشانہ بنایا گیا تھا کیونکہ مرنے والوں میں سنی اور شیعہ دونوں مسالک کے لوگ شامل ہیں۔
تاہم ڈی پی او ڈاکٹر محمد سعید کا کہنا ہے کہ حملے میں اہل تشیع کو نشانہ بنایا گیا لیکن اس سے سنی مسلک کے لوگ بھی متاثر ہوئے کیونکہ جائے وقوعہ کے اطراف میں ان کی مسجد اور دکانیں بھی موجود ہیں۔
واقعے کے خلاف آج ضلع بھر میں سوگ کا اعلان کیا گیا ہے اور تمام نجی و سرکاری تعلیمی ادارے اور کاروباری مراکز بند رہیں گے۔
ڈان+ایجنسیاں
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام