مقدمے کی سماعت کے دوران پراسیکیوشن نے ملزموں کے خلاف پیش کردہ چارج شیٹ میں الزام عاید کیا تھا کہ انہوں نے ستائیس اگست سے بارہ ستمبر تک جان بوجھ کر ایسے اعمال کئے جو ملک کی وحدت، سلامتی اور سرزمین کے خلاف تھے۔ انہوں نے انٹرنیٹ پر دیئے گئے ایک بیان کے ذریعے ملک کو فرقہ وارنہ اور نسلی لحاظ سے تقسیم کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے اپنی انتہاء پسند سوچ کو مذہب کی آڑ میں فروغ دینے کی کوشش کی۔ ان کا یہ فعل آسمانی مذاہب کی واضح توہین کے زمرے میں آتا ہے۔ ملزمان توہین مذہب جیسے قبیح فعل کا ارتکاب کر کے ملک میں فتنہ و فساد پھیلانا چاہتے تھے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ساتوں ملزموں نے من گھڑت اور جھوٹی خبریں پھیلائیں۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے جعلی مواد استعمال کر کے ایسی فلم بنائی جس کے ذریعے وہ مصر میں قبطی عیسائیوں پر ہونے والے مزعومہ مظالم کا پردہ چاک کرنا چاہتے تھے۔ اس فلم کے مندرجات سامنے آنے پر ملک میں افراتفری اور مفاد عامہ کو گزند پہنچنے کا اندیشہ تھا۔
ملزموں نے اپنے مذموم مقاصد کی ترویج کی خاطر اسلام کے آخری پیغمبر کی شان میں گستاخی پر مبنی فلم تیار کی۔ پراسیکیوشن نے بتایا کہ آٹھویں ملزم پادری ٹیری جونز نے دیگر ملزمان کے ساتھ ملکر مذکورہ شرانگیز امور انجام دینے کی کوشش کی، تاہم اس کا کردار زیادہ تر دوسرے افراد کو اکسانے تک محدود رہا۔ تمام ملزمان کے خلاف مقدمے کی سماعت ان کی عدم موجودگی میں ہوئی۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام