Categories: مشرق وسطی

مصر: پورٹ سعید میں ہنگامے، 30 ہلاک، 300 زخمی

مصر کے شہر پورٹ سعید میں ایک عدالت کی جانب سے اکیس افراد کو سزائے موت دیے جانے کے فیصلے کے بعد ہونے والے ہنگاموں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد تیس جبکہ زخمیوں کی تعداد تین سو سے زیادہ ہوگئی ہے۔
ان اکیس افراد کو دو ہزار گیارہ میں پورٹ سعید میں ایک فٹبال میچ کے بعد ہنگاموں میں ملوث ہونے پر یہ سزا سنائی گئی ہے۔ ان ہنگاموں کے نتیجے میں چوہتر افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
سزائے موت پانے والے افراد کے حامیوں نے پولیس کے تھانوں پر حملے کیے اور جس جیل میں ان سزا یافتہ افراد کو رکھا گیا اس پر دھاوا بولنے کی کوشش کی۔ اس حملے کے نتیجے میں جیل کے باہر دو پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا گیا۔
پورٹ سعید میں اس کے بعد ہونے والی کارروائیوں میں مزید اٹھائیس افراد ہلاک اور تین سو سے زیادہ زخمی ہوگئے۔
سرکاری خبر رساں ادارے مینا کے مطابق سنیچر کو ہونے والے جھڑپوں کے دوران فٹ بال کے دو کھلاڑی بھی ہلاک ہو گئے۔ان میں ایک المصری کلب کے سابق گول کیپر تعمیر الفلاح اور دوسرے پورٹ سید کلب کے کھلاڑی محمد الدا دھوی ہیں۔
مصر کی قومی دفاعی کونسل نے جس کی سربراہی صدر محمد مرسی کر تے ہیں تشدت کی مزمت کی ہے اور مذاکرات کے لیے کہا ہے۔ کونسل کا کہنا ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں میں کرفیو لگانے پر غور کر کریں گے۔
شدت پسندی کی یہ کارروائیاں فوج کی تعیناتی کے بعد بھی جاری رہیں۔
دریں اثنا قاہرہ میں بھی وزارتِ داخلہ کی عمارت کے قریب مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے مظاہرین کو عمارت تک پہنچنے سے روکنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔
ان ہلاکتوں سے قبل مصر میں سنیچر کو سابق صدر حسنی مبارک کے اقتدار کے خاتمے کے دو سال پورے ہونے پر ہونے والے ملک گیر مظاہروں میں سات افراد ہلاک جبکہ ساڑھے چار سو سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔
واضح رہے کہ عدالت کی جانب سے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مصر میں انقلاب کی دوسری سالگرہ کے موقع پر ملک میں حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں۔
اس مقدمے کے جج نے اعلان کیا کہ وہ اس مقدمے میں شریک دیگر ملزمان کے بارے میں فیصلے کا اعلان نو مارچ کو کریں گے۔
اس مقدمے کی سماعت کے دوران تہتر افراد پر جرح کی گئی۔
یاد رہے کہ میچ میں ہنگامہ آرائی اس وقت شروع ہوئی جب میچ جیتنے والی ٹیم المصری کے حامی میچ ختم ہونے کے بعد میدان میں داخل ہوئے اور ہارنے والی ٹیم الاھلی کے حامیوں پر حملہ کر دیا۔
المصری کو کمزور ٹیم سمجھا جا رہا تھا لیکن اس نے یہ میچ تین ایک سے جیت لیا تھا۔


بی بی سی اردو

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago