شواہد کے مطابق حمص کے گاؤں حواسیہ میں منگل اور بدھ کو مکانوں کو آگ لگائی گئی تاہم یہ کارروائی حکومت یا باغیوں نے کی اس کے بارے میں متضاد رائے سامنے آئی ہیں۔
حواسیہ میں قتل عام کی رپورٹ جمعرات کو اس وقت سامنے آئی جب اس کو باغی اس ایشو کو منظرِ عام پر لے کر آئے۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
شام کی فوج نے بی بی سی کو بتایا کہ لاشوں کو پہلے ہی کوئی لے گیا تھا۔ تاہم بی بی سی کے نامہ نگاروں قتلِ عام کے نشانات اس علاقے میں دیکھے۔
لیس ڈیوسٹ نے ایک مکان کے اندر تین جلی ہوئی لاشیں دیکھیں اور سیمینٹ کے فرش پر خون کے نشانات موجود تھے۔
’باورچی خانے میں چائے کی پیالیاں شیلف پر پڑی تھیں جبکہ فرش پر گولیوں کے خول بکھرے پڑے تھے اور خون کے نشانات موجود تھے۔ مکان کے ایک اور کمرے میں بستر کے قریب دو افراد کی جلی ہوئی لاشیں تھیں۔‘
گاؤں کے رہائشیوں نے بتایا کہ کم از کم ایک سو افراد کو قتل کیا گیا۔
شامی فوج بی بی سی ٹیم کے ہمراہ تھی اور انہوں نے بتایا کہ نصرہ فرنٹ سے تعلق رکھنے والے باغی قتلِ عام کے ذمہ دار ہیں۔
ایک اور خاتون نے بھی یہی بی بی سی ٹیم کو بتایا۔
تاہم شامی فوج کی غیر حاضری میں ایک عورت کا کہنا تھا کہ قتلِ عام کے وقت فوج اس علاقے میں موجود تھی اور چند فوجیوں نے معذرت بھی کی کہ دیگر فوجیوں نے احکامات نہ ہونے کے باوجود یہ کارروائی کی ہے۔
یاد رہے کہ حمص اور اس کے قریبی علاقوں میں پرتشدد کارروائیاں ہوئی ہیں۔
بی بی سی اردو
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…