Categories: مشرق وسطی

حلب اور درعا میں بم دھماکے،متعدد افراد ہلاک وزخمی

شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج اور باغیوں کے درمیان مختلف شہروں میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔جمعہ کو بم دھماکوں اور تشدد کے دوسرے واقعات میں تیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
شمالی شہر حلب میں سرکاری فوج کے کنٹرول والے علاقے میں زوردار دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں بارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔شامی فوج اور باغیوں نے ایک دوسرے پر اس بم دھما کے کا الزام عاید کیا ہے جبکہ جنوبی صوبے درعا میں دوبم دھماکوں میں پانچ افراد ہلاک اور بیس زخمی ہوئے ہیں۔

سرکاری ٹی وی پر بم دھماکے میں تباہ ہونے والی عمارت کی فوٹیج دکھائی گئی ہے۔دھماکے کے بعد تباہ شدہ عمارت کا ملبہ قریبی شاہراہ پر بکھرا ہوا ہے اور زخمیوں کو اسپتالوں میں منتقل کیا جارہا ہے۔سرکاری ٹی وی کی اطلاع کے مطابق عمارت پر ایک راکٹ گرنے کے بعد زوردار دھماکا ہوا تھا۔اس نے ”دہشت گرد گروپوں” کو راکٹ حملے کا ذمے دار قرار دیا ہے۔واضح رہے کہ شام کا سرکاری میڈیا باغی جنگجوؤں کو دہشت گرد قرار دیتا چلا آرہا ہے۔

حلب کے ایک مکین نے ایک غیرملکی خبررساں ادارے کو بتایا ہے کہ محافظہ سکینہ کے علاقے میں عمارت پر سرکاری فوج نے فضائی حملہ کیا ہے اور اس سے قبل ایک جیٹ طیارے کو فضا میں پرواز کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔اس شہری کے بہ قول باغی جنگجوؤں کے پاس ابھی اس طرح کی فضائی قوت نہیں ہے۔لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اس واقعے میں بارہ افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

ادھر اردن کی سرحد کے نزدیک شام کے جنوبی صوبے درعا میں ایک مہاجر کیمپ میں واقع مسجد کے باہر دو کار بم دھماکے ہوئے ہیں۔ان میں پانچ افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوگئے ہیں۔تاہم سکیورٹی ذرائع نے ان دونوں بم دھماکوں میں ہلاکتوں کی حتمی تعداد بتانے سے گریز کیا ہے۔

بم دھماکوں کے وقت لوگ نمازجمعہ ادا کرنے کے بعد مسجد سے باہر نکل رہے تھے۔شام کے سرکاری ٹی وی نے امریکا کی جانب سے دہشت گرد قرار دی گئی تنظیم الجبۃ النصرۃ (نصرت محاذ) کو درعا میں ان دونوں بم دھماکوں کا ذمے دار قرار دیا ہے۔

دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقوں میں سرکاری فوج نے جنگی طیاروں سے باغیوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی ہے۔باغیوں نے ان علاقوں میں اپنا کنٹرول قائم کررکھا ہے لیکن شامی فورسز نے دارالحکومت کی جانب ان کی پیش قدمی روک رکھی ہے۔باغیوں اور صدر بشارالاسد کی حامی ملیشیا کے درمیان جھڑپوں کی بھی اطلاع ملی ہے۔

درایں اثناء دمشق کے نواحی قصبے الدوما سے تعلق رکھنے والے حزب اختلاف کے کارکنان نے انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے۔اس میں دس افراد کی لاشیں دیکھی ج اسکتی ہیں۔ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور انھیں سر میں یا آنکھوں میں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔

دمشق کے نواح میں واقع فلسطینی مہاجرین کے کیمپ میں شامی باغیوں اور صدر بشارالاسد کے وفاداروں کے درمیان ایک مرتبہ پھر لڑائی چھڑ گئی ہے۔اس میں بارہ افراد ہلاک اور کم سے کم بیس زخمی ہوگئے ہیں۔اقوام متحدہ کے تحت فلسطینی مہاجرین کے امدادی ادارے انروا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جاں بحق اور زخمیوں میں بچے بھی شامل ہیں۔


دمشق
العربیہ ڈاٹ نیٹ

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago