آفیشلز نے ان کی تعداد تو درست بتائی ہے لیکن تاحال ان کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔
ڈان ڈاٹ کام کو انٹیلی جنس ذرائع نے بتایا کہ ایک علاقے میں 18 لاشیں موجود ہیں جن میں چار خاصہ دار بھی شامل ہیں جنہیں عسکریت پسندوں نے اغوا کیا تھا۔ اس کے علاوہ ایک سیکیورٹی اہلکار اور امن کمیٹی کے چند اراکین بھی شامل ہیں۔
‘ یوں لگتا ہے کہ عسکریت پسند انہیں فائرنگ سے قتل کرنے کے بعد لاشوں کو یہی چھوڑ گئے،’ انٹیلی جنس ذرائع نے بتایا۔
مقامی قبائلیوں نے بتایا کہ مرنے والوں میں ایک ہی خاندان کے سات افراد بھی شامل ہیں۔
جب سیکیورٹی اور انتظامی آفیشلز سے رابطہ کیا گیا تو بتایا گیا کہ انہوں نے بھی لاشوں کے بارے میں سنا ہے لیکن ان کے پاس مزید تفصیلات نہیں ۔
ڈان ڈاٹ کام
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…