آفیشلز نے ان کی تعداد تو درست بتائی ہے لیکن تاحال ان کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔
ڈان ڈاٹ کام کو انٹیلی جنس ذرائع نے بتایا کہ ایک علاقے میں 18 لاشیں موجود ہیں جن میں چار خاصہ دار بھی شامل ہیں جنہیں عسکریت پسندوں نے اغوا کیا تھا۔ اس کے علاوہ ایک سیکیورٹی اہلکار اور امن کمیٹی کے چند اراکین بھی شامل ہیں۔
‘ یوں لگتا ہے کہ عسکریت پسند انہیں فائرنگ سے قتل کرنے کے بعد لاشوں کو یہی چھوڑ گئے،’ انٹیلی جنس ذرائع نے بتایا۔
مقامی قبائلیوں نے بتایا کہ مرنے والوں میں ایک ہی خاندان کے سات افراد بھی شامل ہیں۔
جب سیکیورٹی اور انتظامی آفیشلز سے رابطہ کیا گیا تو بتایا گیا کہ انہوں نے بھی لاشوں کے بارے میں سنا ہے لیکن ان کے پاس مزید تفصیلات نہیں ۔
ڈان ڈاٹ کام
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان