Categories: پاکستان

وزیراعظم پاکستان کی گرفتاری کا حکم

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کرائے کے بجلی گھروں کے بارے میں ہونے والے معاہدوں کے مقدمے میں وزیراعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف سمیت سولہ افراد کی گرفتاری کا حکم دے دیا ہے۔
عدالت کا کہنا ہے کہ اگر ان میں سے کوئی بھی شخص بیرون ملک فرار ہوا تو اُس کی تمام تر ذمہ داری قومی احتساب بیورو کے چیئرمین پر عائد ہوگی۔
یہ حکم ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب ملک کی سیاسی صورتحال میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور تحریکِ منہاج القرآن کے سربراہ طاہر القادری اسلام آباد میں ہزاروں افراد کے ہمراہ اسمبلیوں کی تحلیل کا مطالبہ کرتے ہوئے دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔
عدالت نے سماعت کے دوران نیب کے پراسیکیوٹر جنرل سے استفسار کیا کہ اس مقدمے میں ابھی تک ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی جبکہ عدالتی فیصلے کو آئے ہوئے کافی عرصہ ہوگیا ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ابھی تک تو اس مقدمے کا ریفرنس بھی احتساب عدالتوں میں نہیں بجھوایا گیا تو ملزمان کے خلاف کیا کارروائی کی جائے گی۔
عدالت کا کہنا تھا کہ اس مقدمے کے تفتیشی افسر محمد اصغر نے جب اس مقدمے کی تفتیش میں جب وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو بطور ملزم نامزد کیا تو اُس کا تبادلہ کردیا گیا اور اس ضمن میں سپریم کورٹ کا نام بھی استعمال کیا گیا کہ عدالت تفتیشی افسر کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے۔
نیب کے ایڈشنل پراسیکیوٹر جنرل رانا زاہد محمود نے عدالت کو بتایا کہ نیب نے پیراں غائب ریفرنس تیار کر لیا ہے جسے احتساب عدالت میں پیش کرنے کے لیے حتمی منظوری کے لیے نیب ہیڈکوارٹر بھجوا دیا گیا ہے۔
عدالت کے استفسار پر نیب کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے اُن افراد کے نام بتائے جنہیں اس ریفرنس میں نامزد کیا گیا ہے اُن میں موجودہ وزیراعظم اور مقدمے کے وقت کے وزیرِ پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف، سابق وزیر خزانہ شوکت ترین، پانی و بجلی کے سابق سیکرٹریز شاہد رفیع، محمد اسماعیل قریشی اور اشفاق محمود، سابق سیکرٹری خزانہ سلمان صدیق، نپیرا کے سابق چیئرمین خالد سعید اور پیپکو کے سابق مینیجنگ ڈائریکٹرز طاہر بشارت چیمہ اور منور بصیر احمد سمیت سولہ افراد کے نام شامل تھے۔
ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ اگر عدالت حکم دے تو ان افراد کو گرفتار کیا جا سکتا ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب کے پاس لوگوں کو گرفتار کرنے کا اختیار ہے تو پھر عدالتی احکامات کی کیا ضرورت ہے۔ بعد ازاں عدالت نے ان افراد کی گرفتاری کا حکم دیتے ہوئے اس مقدمے کی سماعت سترہ جنوری تک ملتوی کردی۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے تیس مارچ دو ہزار بارہ کو کرائے کے بجلی گھروں کے مقدمے کے فیصلے میں تمام بجلی گھروں کے معاہدوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان معاہدوں فوری طور پر منسوخ کرنے کا حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ معاہدے کرنے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
فیصلے میں عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ سابق وزیر برائے پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف اور سیکریڑی خزانہ سمیت تمام حکومتی اہلکاروں نے بادی النظر میں آئین کے تحت شفافیت کے اصول کی خلاف ورزی کی ہے لہٰذا ان افراد کی طرف سے بدعنوانی اور رشوت ستانی میں ملوث ہوکر مالی فائدہ حاصل کرنے کو خارج از امکان نہیں قرار دیا جا سکتا ہے۔


شہزاد ملک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام

modiryat urdu

Recent Posts

اسلامی ممالک کا ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہونے میں کوئی خیر یا فائدہ نہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…

31 minutes ago

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago