رپورٹس کے مطابق اس علاقے کے بہت سے رہائشی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، اور گھروں اور دکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔
برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کے ادارے ایس او ایچ آر کا کہنا ہے کہ اس حملے میں کم از کم 34 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ مبصر برائے انسانی حقوق نے کہا ہے کہ ان دھماکوں کے ذریعے سرکاری فوج کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
ٹیلی ویژن پر آگ بجھانے والے عملے کو دو جلی ہوئی گاڑیوں کے ڈھانچوں میں آگ بجھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
جرمانہ میں اسی دوران دو چھوٹے بموں کے دھماکے بھی ہوئے، تاہم ان میں کسی شخص کے ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے جرمانہ سے بتایا ہے کہ بدھ کے روز سرکاری فوج اور باغیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔
حالیہ دنوں میں دمشق کے نواحی علاقوں میں شدید جنگ ہوتی رہی ہے۔
جرمانہ میں زیادہ آبادی دروز اور عیسائیوں کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہاں حکومت کے حامی افراد نے باغیوں کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلح دھڑے تشکیل دے رکھے ہیں۔
29 اکتوبر کو اسی علاقے میں ایک اور کار بم دھماکے میں 11 افراد مارے گئے تھے۔
ایک حکومت مخالف دھڑے ایل سی سی نے کہا ہے کہ دارالحکومت اور اس کے مضافات میں منگل کے روز 48 افراد مارے گئے تھے، جب کہ ملک بھر میں 131 لوگ ہلاک ہوئے جن میں بچے بھی شامل تھے۔
حکومت مخالف گروپوں کا کہنا ہے کہ مارچ 2011 میں بشار الاسد کے خلاف مزاحمت شروع ہونے کے بعد سے اب تک 40 ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایل سی سی کے مطابق فری سیرئین آرمی نے دمشق کے جنوب میں ایک فوجی فضائی اڈے پر حملہ کیا اور دمشق کے مضافات میں حکومتی افواج کے کئی حملوں کو روکا۔
بی بی سی اردو/ڈان نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…