پرتشدد واقعات کا اصل مرکز دارالحکومت بغداد رہا جہاں اہل تشیع کو نشانہ بنایا گیا جبکہ کچھ واقعات عراق کے شمال میں واقع کرد علاقے میں بھی ہوئے جہاں کرد حکومت سے خودمختاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
آفیشلز کے مطابق عراق کے دارالحکومت بغداد کے شمالی علاقے میں حسینیہ کے نام سے مشہور اہل تشیع کیعبادت گاہ کے قریب تین کار بم دھماکوں میں کم از کم بارہ افراد ہلاک اور 50زخمی ہو گئے۔ حملوں میں شعالہ، گریات اور حریہ کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔
اس سے قبل شمالی عراق کے متنازع کرد علاقے میں واقع شہر کرکوک میں تین کار بم دھماکوں میں چار افراد ہلاک اور سولہ زخمی ہو گئے جبکہ حکام کے مطابق کرکوک کے مشرق میں 50 کلومیٹر پر واقع عرب اکثریتی علاقے میں سڑک کنارے نصب دو بم دھماکوں میں دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔
یہ حملے ایک ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب ایک دن قبل وفاق اور کرد سیکیورٹی چیف شمالی علاقے میں جاری تناؤ کو کم کرنے کیلیے ایک معاہدے پر متفق ہو گئے تھے، حالیہ تناؤ اور پرتشدد واقعات کے بارے میں عراق کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا تھا کہ اس سے خانہ جنگی کا خطرہ ہے۔
پولیس لیفٹیننٹ کرنل خالد البیاتی نے بتایا کہ متنازع علاقے تز خرماتو میں سڑک کنارے نصب بم دھماکوں میں سیکیورٹی فورزسز کے دو اہلکار زخمی ہو گئے۔ حملوں میں پولیس اور آرمی کو نشانہ بنایا گیا۔
بقوبہ کے قریب القاعدہ مخالف سہوا کے رضاکار کو نشانہ بنایا گیا جبکہ پولیس افسر کے مطابق شہر کے وسط میں سڑک کنارے نصب ایک بم دھماکے میں دو شہری زخمی ہو گئے۔
ابھی تک کسی نے بھی ان حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے تاہم کار بم دھماکے سنی باغیوں کا اہم ہتھیار ہیں جو اکثر عراق کی شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بناتے ہیں۔
عراق میں سال 2006 اور 2007 میں ہونے والے شدت پسندی میں ڈرامائی انداز میں کمی ہوئی ہے تاہم حملے اب بھی عام ہیں، مذکورہ فرقہ وارانہ قتل عام نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔
عراق کی حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ ماہ حملوں میں 144 افراد ہلاک اور 264 زخمی ہو گئے تھے۔
ڈان نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…