جامع مسجدمکی زہدان میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ شورا کے ذریعے خلیفہ مقرر ہوئے۔ ان کی شہادت کے بعد ان کا صاحبزادہ حضرت حسن خلیفہ متعین ہوئے؛ چھ مہینے تک خلافت کے بعد انہوں نے حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کرکے عنان حکومت ان کے حوالے کردیا تاکہ مسلمانوں کی خونریزی اور خانہ جنگی کی راہ بند ہوجائے۔
مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا: خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم اپنے دورخلافت میں اہل بیت نبوی علیہ السلام کا بہت احترام کرتے تھے حتی کہ انہیں اپنے ہی خاندان پر بھی ترجیح دیتے تھے۔ حضرت علی اور ان کے صاحبزادے بھی خلفائے راشدین سے تعاون کرتے تھے اور اپنی مثبت آراء و مشوروں سے اسلامی مقاصد کی پیشروی کی خاطر انہیں سپورٹ فرماتے تھے۔ لہذا ان کے درمیان ایسا کوئی اختلاف نہیں تھا جو انہیں ایک دوسرے کیخلاف ہتھیار اٹھانے پر اکسائے؛ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مصالحت کے بعد کسی نے ان کے خلاف علم بغاوت نہیں اٹھایا۔
یزیدکی جانشینی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا: یزید کا خلافت کیلیے انتخاب ایک سنگین غلطی تھی؛ یزید ہرگز مسلمانوں کی رہبری وقیادت کی اہلیت و صلاحیت نہیں رکھتا تھا۔ اس دور میں حضرات حسین، عبداللہ بن زبیر اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم جیسی شخصیات موجود تھیں جو خلافت کے زیادہ اہل تھے۔ چونکہ اکابر صحابہ نے یزید کی حکومت سے خطرہ محسوس کیا تو اس سے بیعت کرنے سے انکارکیا۔ اہل مکہ و مدینہ سمیت حضرت حسین، ابن الزبیر اور ابن عمر رضی اللہ عنہم نے یزید کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی۔ اس دوران اہل کوفہ نے حضرت حسین کے نام خط لکھ کر ان کے ہاتھ پر بیعت کا اعلان کیا۔ آپ نے اپنے چچازادبھائی مسلم بن عقیل کو کوفہ روانہ کیا تاکہ یزید کے خلاف ایک لشکر تیار کرے۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ سترساتھیوں سمیت کوفہ کی جانب روانہ ہوئے کہ راستے میں انہیں کوفیوں کی خیانت کی خبر پہنچی۔
مہتمم دارالعلوم زاہدان نے مزیدکہا: اہل کوفہ کی وعدہ خلافی و خیانت کے بعد حضرت حسین کا قافلہ یزیدی فوج کے نرغے میں آیا۔ اس ظالم دستے نے آپؓ کے سامنے دوآپشنز رکھا؛ اسارت یا قتال۔ حضرت حسین اسارت کی ذلت برداشت نہیں کرسکتے لہذا انہوں نے لڑنے کا عزم کیا اور بہادری سے لڑتے ہوئے شہادت کے اعلی مقام پرفائز ہوئے۔ عالم اسلام ہرگز واقعہ کربلا اور ’حرہ‘ کے سانحے کو نہیں بھول سکتا؛ حرہ میں یزید کی فوج نے سنہ63ہجری میں تین دن کیلیے مدینہ والوں کی جان ومال کو مباح قرار دیتے ہوئے لوگوں کا قتل عام کیا۔ ان واقعات نے ثابت کیا یزید ایک آمر و مستبد حکمران تھا جو کسی کی بات سننے کیلیے تیار نہ تھا۔ تمام افراد جن کا حضرت حسین رضی اللہ کی شہادت میں دخل تھا اسی دنیا میں عذابِ الہی کا شکار ہوئے۔ یزید کی موت جلد واقع ہوئی اور اس کی حکومت باقی نہ رہی۔
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت اور قیام سے مسلمانوں کو کیا سبق ملتاہے؟ اس حوالے سے حضرت شیخ الاسلام کا کہنا تھا: قیام حسین نفاذ عدل اور استبداد و آمریت کی ریشہ کنی کیلیے تھا۔ آپؓ کا مقصد امربالمعروف اور نہی عن المنکر تھا۔ آپ کا مشن لوگوں کیلیے انصاف اور حق کے سایے میں پرامن زندگی کی فراہمی تھی۔ حضرت حسین نے جام شہادت نوش کیا تاکہ انسانیت کو یہ سبق سکھائے کہ جب انصاف کو پاؤں تلے روندا جائے تو آپ خاموش مت رہیں۔ ظلم و آمریت کیخلاف قیام کریں اگرچہ اس راہ میں شہادت کا خدشہ کیوں نہ ہو۔
انہوں نے مزیدکہا: اہل بیت خاص کر حضرت فاطمہ، علی اور ان کے صاحبزادوں کی محبت ہر مسلمان کے دل میں رچ بسی ہے۔ ان سے محبت صرف زبانی نہیں ہونی چاہیے؛ ان کی سیرت کو عملی طورپر اپنی زندگیوں میں نافذ کرنا چاہیے۔ روایات کے مطابق حضرت حسین اور ان کا صاحبزادہ زین العابدین انتہائی عابد، متواضع اور زاہد افراد تھے اور دنیا میں کوئی رغبت نہیں رکھتے تھے۔ ان کی سیرت سے پیروی کرکے مسلمان بہترین محبت کا اظہار کرسکتے ہیں۔
عالمی اتحاد برائے علمائے مسلمین کے رکن نے مزید کہا: اگر سنی برادری ماتم و عزاداری نہیں کرتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ حضرت حسین کی شہادت ان کیلیے کوئی سانحہ نہیں ہے۔ اہل بیت کی دوستی و محبت ان کے دلوں کی جڑوں میں ہے۔ لیکن قرآن پاک کے ارشاد کے مطابق اہل سنت نوحہ خوانی و ماتم کو چھوڑ کر صبر سے کام لیتے ہیں؛ ’’یا ایھا الذین آمنوا استعینوا بالصبر والصلوٰۃ‘‘، مصیبت کے موقع پر اہل ایمان کو نماز وعبادت اور صبر سے کام لینا چاہیے۔
آخر میں مولانا عبدالحمید نے کہا: ان ایام میں امن کی حفاظت و قیام بہت ضروری ہے۔ تمام لوگ امن کیلیے کوشش کریں۔ ہوسکتاہے کوئی فرد شیعہ یا سنی کے لبادے میں لوگوں کا سکون چھیننے کی کوشش کرے اور فرقہ وارانہ نزاع پیدا کرے۔ مسلمانوں کا ہر گروہ اپنے طریقے سے ان ایام کی پاسداری کرتاہے۔ لہذا شیعہ وسنی پر لازم ہے ایک دوسرے کی مقدسات کا خیال رکھیں اور گستاخی سے گریز کریں۔ خاص کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف ہرزہ سرائی نہیں کرنی چاہیے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…