وہ جمعہ کو قاہرہ میں صدارتی محل کے باہر اخوان المسلمون کے کارکنان اور اپنے ہزاروں حامیوں سے خطاب کررہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ”میں نے ہمیشہ عوام کی نبض پر ہاتھ رکھا اور عوام کی منشا کو پہچانا ہے اور ان شاء اللہ مستقبل میں بھی ایسا ہی کروں گا”۔
قبل ازیں مصر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘مینا’ نے ان کا ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ ”کوئی بھی ہماری آگے کی طرف پیش قدمی کو روک نہیں سکتا۔ میں اللہ اور قوم کے سامنے سرخرو ہونے کے لیے اپنے فرائض انجام دے رہا ہوں اور میں نے ہر کسی سے مشاورت کے بعد فیصلے کیے ہیں”۔
انھوں نے صدارتی محل کے باہر اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قانون پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ انھوں نے سابق صدر حسنی مبارک کے حامیوں پر ملک میں افراتفری پھیلانے کا الزام عاید کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ”کسی بھی قیمت پر قانون کا نفاذ کیا جائے گا اور میں ان لوگوں کے خلاف ثابت قدم رہوں گا جو مصر کو تباہ کرنا چاہتے ہیں اور اس کی جمہوری جدوجہد کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنا چاہتے ہیں”۔
صدر مرسی نے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ ”میں نے جو بھی اقدامات اور فیصلے کیے ہیں، وہ ملک کے مفاد میں کیے ہیں اور ان کا کسی بھی طرح یہ مطلب نہیں ہے کہ میں اپنے آئینی اختیارات میں اضافہ کرنا چاہ رہا ہوں”۔
”میں جب بھی ملک اور انقلاب کو خطرے میں دیکھتا ہوں تو صورت حال میں مداخلت کرنے اور قانون کی عمل داری کا پابند ہوں اور ان تمام لوگوں کا احتساب کروں گا جو ملک کی جمہوریت کی جانب پیش قدمی کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں”۔ ان کا کہنا تھا۔
قاہرہ اور دوسرے شہروں میں صدر مرسی کےہزاروں حامیوں اور مخالفین نے نماز جمعہ کے بعد الگ الگ ریلیاں نکالی ہیں۔ ان کے مخالفین نے قاہرہ کے مشہور تحریر چوک میں ان کے جاری کردہ صدارتی فرامین اور حالیہ اقدامات کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ انھوں نے صدر کے خلاف سخت نعرے بازی کی اور ان سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔
صدر مرسی کو ان کے جمعرات کو جاری کردہ اعلامیے کے ذریعے مطلق العنان اختیارات حاصل ہو گئے ہیں اور اس آئینی اعلامیے کے تحت تجزیہ کاروں کے بہ قول وہ عدلیہ کے مد مقابل آ گئے ہیں جبکہ عدلیہ نے ان کے اقدامات کو اپنی آزادی کے منافی قرار دیا ہے۔
ان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ وہ تمام اختیارات کو صدر کے عہدے میں سمیٹ کر سبکدوش صدر حسنی مبارک سے بھی بڑے آمر اور مطلق العنان حکمران بن گئے ہیں اور آیندہ سال فروری میں ملک کے نئے دستور کی منظوری تک وہ ان اختیارات کو بروئے لا سکیں گے۔
قاہرہ ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار