شام کے سرکاری ٹی وی چینل کے مطابق داما روز ہوٹل کے نزدیک دہشت گردوں نے بم دھماکا کیا ہے۔ دوسری جانب دمشق ہی میں اتوار کو علی الصباح سرکاری فوج نے جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپوں کے بعد ان کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔
لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان دمشق کے شمال مغرب میں واقع ایک انٹیلی جنس محکمے کی عمارت کے نزدیک جھڑپیں ہوئی ہیں۔تاہم اس نے سرکاری فوج کی بمباری اور جھڑپوں میں ہلاکتوں کی کوئی اطلاع نہیں دی ہے۔ ہفتے کے روز ملک کے مختلف علاقوں میں اسدی فوج کی بمباری اور جھڑپوں میں ایک سو چورانوے افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
شامی فوج کے جنگی طیاروں نے دارالحکومت سے پچاس کلومیٹر شمال مشرق میں واقع علاقے غوطہ میں بھی تین فضائی حملے کیے ہیں۔ آبزرویٹری کی اطلاع کے مطابق صدر بشار الاسد کی وفادار فوج نے شمالی شہر حلب کے مختلف علاقوں پر بھی گولہ باری کی ہے اور جنوبی شہر درعا سے بھی باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان تازہ جھڑپوں کی اطلاع ملی ہے۔
دوسری جانب جیش الحر کے زیر انتظام ‘نواسان رسول بریگیڈ’ کے اہلکاروں نے دارالحکومت دمشق میں اتوار کے روز کمانڈ اسٹاف ہیڈکواٹرز میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ کمانڈ اسٹاف مرکز پر حملے کے بعد شام کے سرکاری ٹی وی پر کچھ زخمیوں کو لے جاتے بھی دکھایا گیا تھا۔ سرکاری ٹی وی نے اس حملے کو دہشت گردی کی کارروائی قرار دیا ہے۔
دمشق
العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام