’ایرانی اہل سنت کو عملی طورپر تسلیم کیاجائے‘

ممتازسنی عالم دین، خطیب اہل سنت زاہدان شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید دامت برکاتہم نے عیدالاضحی کے پرمسرت موقع پر زاہدان کی مرکزی عیدگاہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا: آمریت اور فردِواحد کی حکومت کا دور ختم ہوچکاہے۔ بیدار اقوام اب آمریت کی بیخ کنی پر کمربستہ ہوچکی ہیں۔ ان شاء اللہ مسلم اقوام کی بیداری و انقلابی مہم کامیابی و فتح سے ہمکنار ہوگی۔

لگ بھگ دولاکھ نمازگزاروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ایرانی اہل سنت برادری ہمیشہ اپنے ملک کی جغرافی سرحدات کی حفاظت کرتی رہی ہے۔ اہل سنت کی موجودی ہر میدان میں نمایان رہی ہے۔ سنی مسلمان اکثر سرحدی علاقوں میں رہتے ہیں چنانچہ ایران-عراق جنگ کے دوران انہوں نے اپنی جانوں اور اموال کا نذرانہ پیش کیا۔ اہل سنت کا مطمح نظر ایران کی عزت اور اسلام کی سربلندی ہے اور وہ شیعہ وسنی تنازعات کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ چھوٹے انتہاپسند گروہ ہر فرقے میں پائے جاتے ہیں لیکن اکثریت کی راہ ان سے جدا ہوتی ہے۔

بات آگے بڑھاتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام نے مزیدکہا: ان تمام قربانیوں کے باوجود ایرانی سنیوں کو مسلسل نظرانداز کیاجاتاہے۔ ان کا سب سے بڑا مطالبہ یہ ہے کہ ان کی آزادی تمام امور مثلا مذہبی، سیاسی اور اداری شعبوں میں تسلیم کی جائے۔ (عوام کا نعرہ تکبیر) قومی آئین میں اہل سنت کے وجود کو تسلیم کیاگیاہے لیکن عملی طور روزگار کی فراہمی اور مناصب و عہدوں کی تقسیم میں انہیں سخت امتیازی رویہ کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا: معتدل رائے کے مطابق جو میری تحقیق بھی ہے ملک کی آبادی کی کم ازکم بیس فیصد اہل سنت کی ہے۔ اس کے باوجود معلوم نہیں کیوں کوئی لائق سنی شہری وزیر، نائب وزیر، سفیر یا گورنر نہیں بن سکتا؟ کیوں کلیدی عہدوں میں ان پر اعتماد نہیں کیاجاتا؟ یہ ہمارا آئینی و قانونی حق ہے کہ اپنے ملک کی تقدیر میں شرکت کریں۔ اہل سنت کا مطالبہ ہے کہ نہ صرف سنی اکثریت علاقوں میں انہیں تسلیم کیاجائے بلکہ پورے ملک میں جہاں بھی کوئی سنی شہری رہتاہے اسے مکمل آزادی حاصل ہو تا کہ وہ اپنے عقیدے اور فقہ کے مطابق اللہ کی عبادت کرے۔ جہاں سنی مسلمان اقلیت میں ہیں انہیں دباؤ کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔ انہیں نمازجمعہ، عیدین اور باجماعت نماز بلاخوف وہراس پڑھنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ سرکاری و تعلیمی اداروں سمیت عسکری قلعوں میں اہل سنت کو مذہبی رسومات کی ادائیگی سے نہیں روکنا چاہیے۔

اہل سنت برادری خوداپنے مدارس ومساجد چلانے کا اہل ہے
زاہدان شہر میں عیدالاضحی کے خطیب نے اہل سنت کی مساجد ومدارس کے استقلال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہمارے مدارس و مساجد کا کنٹرول شیعہ علما کے ہاتھ نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ ان مدارس و مساجد کیلیے منصوبہ بندی اہل سنت ہی کرے گی۔ تعلیمی امور وہ خود سنبھال سکتے ہیں۔ یہ جانبدارانہ رویہ ہے کہ شیعہ مساجد ومدارس کی نگرانی ادارہ اوقاف کرے اور اہل سنت کے دینی اداروں پر دوسرے ادارے کنٹرول کریں۔ الحمدللہ اہل سنت برادری میں لائق اور دانشور لوگوں کی کمی نہیں ہے۔ حکومت صرف نگرانی و نظارت کرسکتی ہے لیکن مداخلت کی اسے ہرگز اجازت نہیں ہوسکتی۔

انہوں نے کہا: ہم سب مسلمان ہیں اور ہمیں باہمی احترام کے ساتھ آزادی سے رہنا چاہیے۔ اگر حکام ایران میں رہنے والے سنیوں کے حقوق اور مسائل پر توجہ دیں تو دراصل وہ پوری دنیامیں شیعہ اقلیتوں کے حقوق پر توجہ دیتے ہیں ۔ یہ امر دوسروں کیلیے قابل تقلید ہوگا۔

پھانسی کے منفی اثرات ملک کیلیے انتہائی خطرناک ہیں
ایران میں بڑھتے ہوئے پھانسی کے واقعات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: ملک میں پھانسی کی سزاؤوں میں کثرت نے ہمیں پریشان کیاہے؛ ان پھانسیوں کے منفی اثرات ناقابل تصور ہیں۔ کئی گھرانوں کی تباہی، یتیمیوں اور بیواؤوں کی کثرت، فساد وفحاشی، دشمنی و بدامنی کا پھیلاؤ پھانسی کے بعض نتائج ہیں۔ افسوس ناک بات ہے کہ پھانسیوں کا سب سے زیادہ حصہ صوبہ سیستان بلوچستان کی نصیب ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب گھر کا کمانے والا پھانسی پر چڑھ جائے تو کون اس کے عیال کی کفالت کرے گا؟ اس کے بچوں کی تعلیم اور صحیح تربیت کا کیا ہوگا؟

دارالعلوم زاہدان کے مہتمم و شیخ الحدیث نے مزیدکہا: دوسری جانب بڑھتی ہوئی پھانسیوں کی وجہ سے ایران کو بھی بدنام کیاجاتاہے؛ دشمن ممالک و عناصر پھانسی کو اسلام سے جوڑ کر دین کے خلاف مہم جوئی کرتے ہیں۔ حالانکہ اسلام پھانسی کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔ ایک ایسے فرد کی حیثیت سے کہتاہوں جس نے پچاس سال سے زائد کا عرصہ دین اور علم کی خدمت میں گزارا ہے اور درس وتدریس اور قرآن وحدیث کے مطالعے سے وابستہ رہاہے۔ اسلام کے ابتدائی سالوں میں بہت تھوڑے لوگوں کو موت کی سزا دی گئی۔ وہ بھی اکثر قصاص کی سزائیں تھیں جہاں اسلام عفو و بخشش کا درس دیتاہے۔

مولاناعبدالحمیدنے کہا: یہ باتیں کسی خاص غرض کی وجہ سے نہیں کہتاہوں بلکہ میرا ہدف ملک و قوم کی خیرخواہی ہے۔ ملک اور حکام کی خیر اسی میں ہے کہ پھانسی کی سزا روک دی جائے۔ (حاضرین کی تکبیر)

منشیات کا استعمال اور لین دین حرام ہے
خطیب اہل سنت زاہدان نے مزیدکہا: علمائے کرام نے کئی مرتبہ فتوا دیاہے کہ منشیات کا استعمال اور لین دین حرام و ناجائز ہے۔ بعض لوگ زراندوزی کیلیے یہ گندا کاروبار کرتے ہیں جبکہ کچھ لوگ غربت و کم بختی کے مارے اس دھندے کا شکار ہوتے ہیں۔ دوسرا گروہ دراصل پہلے گروہ کے ہاتھوں استعمال ہوتاہے جو چندروپوں کے عوض اپنی جان خطرے میں ڈالتاہے۔ منشیات نے خاندانوں کو تباہی سے دوچارکیاہے۔ حکام یاد رکھیں جو منشیات حمل کرنے کے الزام میں گرفتار ہوئے ہیں وہ بھی اسی ملک کے بیٹے ہیں اور ان پر رحم کیاجاسکتاہے۔ بلاشبہ ایسے لوگوں کو سزا ملنی چاہیے لیکن پھانسی کوئی علاج نہیں ہے بلکہ الٹا خود ایک مشکل ہے۔ انقلاب کے تینتیس سالہ تجربہ سے یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ پھانسی سے منشیات کی راہ بند نہیں ہوتی۔

ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مولانا اسماعیلزہی نے کہا: مہنگائی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ مختلف طبقے کے لوگ سخت دباؤ میں ہیں۔ ہوشربا قیمتوں نے زندگی اجیرن کردی ہے۔ متعدد کارخانے بند ہوچکے ہیں جس سے بے روزگاری بھی بڑھ گئی ہے۔ اسی لیے حکام کو کسی سنجیدہ حل کی تلاش کرنی چاہیے۔

محکمہ تعلیم بلامحرم طالبات کو پکنک پر نہ لیجائے
خطیب اہل سنت زاہدان نے ایران کے مغرب میں ایک حادثے میں چھبیس طالبات کے جاں بحق ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس واقعے سے مجھے بہت دکھ ہوا۔ سوال یہ ہے محکمہ تعلیم کیوں لوگوں کی بیٹیوں کو محرم کے بنا بسوں میں دوسرے شہروں کی سیر کراتاہے؟ لوگ کیوں اجازت دیتے ہیں ان کی بچیوں کو اکیلی ایک کونے سے دوسرے کونے تک لیجایاجائے؟ اسلامی فقہ خاص کر احناف کے نزدیک یہ حرام ہے۔ اس کا سدباب ہونا چاہیے۔

پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی کے ٹارگٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا: اس سانحے سے مجھے بے حد افسوس ہوا؛ کچھ انتہاپسند عناصر اپنے علاقائی رسوم کو اسلام کا نام دیکر اسلام کو بدنام کرتے ہیں حالانکہ اسلام مرد اور عورت دونوں کی تعلیم کی ترغیب دیتاہے۔ یہ لوگ خود کو اللہ سے زیادہ خیرخواہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مسلمان سمجھتے ہیں۔ جو بات دین میں نہیں اسے دین کا لبادہ دیتے ہیں۔

زاہدانی اہل سنت کی عیدگاہ کا مسئلہ حل کیاجائے
مولانا عبدالحمید نے مسئلہ عیدگاہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: آٹھ سالوں سے ہم اس کیس کے حل کی تلاش میں ہیں لیکن اب تک ہمیں کوئی مناسب زمین الاٹ نہیں کی گئی جہاں لوگ آسانی سے عید کی نماز پڑھ سکیں۔ اہل تشیع کو ساٹھ ایکٹر کی زمین دی گئی جو اچھی بات ہے لیکن ہمیں پچاس ایکٹر بھی نہیں دیاجارہاہے جو انصاف کے خلاف ہے۔ امیدہے جلد از جلد یہ مسئلہ حل ہوجائے۔

حج سے کسی کو نہ روکاجائے
اپنے بیان کے آخر میں سنی علما کو حج کے سفر کے درمیان واپس کرنے کے واقعے پر اظہارخیال کرتے ہوئے عالمی اتحاد برائے علمائے مسلمین کے رکن نے کہا: کچھ عرصہ قبل میں نے رہبرایران کے نام خط لکھا کہ ہمارے پاسپورٹوں کو واپس دیاجائے۔ بعض حکام نے رابطہ کیا کہ اس سال ہم حج پر جاسکتے ہیں لیکن پاسپورٹ تاخیر سے دلوائے گئے۔ یہ افسوس کا مقام ہے کہ لوگوں کو حج سے روکاجائے بجائے اس کے حاجیوں کی مدد کی جائے کہ وہ حج پر چلے جائیں۔
حتی کہ قیدیوں کو بھی حج کے روحانی سفر سے منع نہ کیاجائے۔ حج ہدایت و اصلاح کی جگہ ہے۔

آخر میں انہوں نے حاضرین سے درخواست کی مظلوم شامی اور فلسطینی عوام کی کامیابی اور مجاہدین حق کی فتح کیلیے دعا کی جائے جو آزادی اور انصاف کی خاطر اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں۔

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago